خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 440

خطابات شوری جلد سوم ۴۴۰ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء پیشہ ور اُس ملک میں بڑی آسانی سے چار پانچ سو سے ہزار روپیہ تک ماہوار کما سکتے ہیں اور چونکہ درزیوں ، معماروں اور لوہاروں کی اُس ملک میں کمی ہے اس لئے وہ پیشہ وروں کو اپنے ملک میں داخلہ کی فوراً اجازت دے دیتے ہیں۔اگر ہمارا دو تین سو آدمی وہاں چلا جائے تو یکدم ہمارے بجٹ پر ایک غیر معمولی اثر پڑ سکتا ہے۔مثلاً اگر ہمارا تین سو آدمی وہاں جائے اور اوسطاً ہر شخص تین سو روپیہ کمائے تو نوے ہزار روپیہ ماہوار کمائے گا اور اگر وصیت کر دیں تو صرف تین سو آدمی سے ہمیں نو ہزار روپیہ ماہوار چندہ آ جائے گا حالانکہ اگر وہ اسی جگہ رہیں تو اُن سے زیادہ سے زیادہ نو سو روپیہ آسکتا ہے یہ کتنا بڑا فرق ہے جو اُس ملک میں ہمارے چند سو آدمیوں کے چلے جانے سے پید اہوسکتا ہے۔پھر اگر اس تعداد میں زیادتی ہوتی چلی جائے اور پانچ سو سے ہزار تک یہ روپیہ کمانے لگیں تو اسی نسبت سے ہمارا بجٹ بھی بڑھ جائے گا۔اور اگر تبلیغ کر کے وہاں کے ہندوستانیوں اور دوسرے لوگوں کو بھی احمدی بنانا شروع کر دیا جائے تو ترقی کا ایک وسیع باب کھل سکتا ہے۔وہاں اس وقت تین لاکھ کے قریب ہندوستانی ہیں جن میں سے ایک لاکھ کے قریب مسلمان ہے اگر ہماری جماعت وہاں زور پکڑتی چلی جائے اور پچاس ہزار آدمی کمانے والے پیدا ہو جائیں تو ہمارا بجٹ کئی گنا بڑھ جائے گا اور پھر لازماً ہماری تبلیغ بھی وسیع ہو جائے گی۔یہ مت خیال کرو کہ ہندو اور سکھ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ہندوستان میں اس وقت جہاں ہزاروں ہزار مسلمان ہندو اور سکھ ہو رہے ہیں وہاں کئی ہندو اور سکھ ایسے ہیں جو مسلمان ہو رہے ہیں اور اگر یہ لوگ مسلمان ہو جائیں تو پھر ان کے ذریعہ بھی ہم اپنی تبلیغ کو وسیع کر سکتے ہیں۔صنعت و حرفت کی طرف توجہ کی ضرورت پیس صنعت و حرفت کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئیے اور کوشش کرنی چاہئیے کہ ہمارے معمار، لوہار، درزی اور موچی وغیرہ بیرونی ملکوں میں جا کر کام کریں اس طرح تبلیغ بھی وسیع ہوگی۔ہماری آمد بھی بڑھ جائے گی اور اقتصادی لحاظ سے بھی ہمیں ایک طاقت حاصل ہو جائے گی۔اس وقت ہمارا زیادہ زور زمیندار پر ہے اور یہ اقتصادی لحاظ سے نہایت ہی کمزور بنیاد ہے۔ہمیں کوشش کرنی چاہئیے کہ ہم صنعت و حرفت میں ترقی کریں۔