خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 433

خطابات شوری جلد سوم ۴۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء کیونکہ کمیٹی ایک بڑی تعداد ممبران پرمشتمل ہوتی ہے جن میں سے اکثر بارسوخ اور تجربہ کار ہوتے ہیں جب وہ اس مجلس میں آتے ہیں تو قانونی لحاظ سے اور تنظیم کے لحاظ سے وہ مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے پیش کردہ بجٹ کی تصدیق کریں اور ظاہر ہے کہ جب بڑی بڑی جماعتوں کے کارکن ایک فیصلہ کر کے آئیں تو اُن کے حلقہ اثر کی رائیں لازماً اُن کی تائید میں جائیں گی اور اس صورت میں اعتراض کرنے والے کی حیثیت بہت کمزور ہو جائے گی۔شیخ صاحب نے کہا ہے کہ اس وقت ایک طرف کی بات تو ذہن میں آتی ہے لیکن دوسری طرف کی نہیں آتی حالانکہ وہ سب باتیں سننے کے لئے تیار تھے اور چاہئیے تھا کہ ان امور کو سب کمیٹی کے سامنے پیش کیا جاتا۔میرے نزدیک اس بات کو آئندہ نوٹ کر لینا چاہیے اور اس کے مطابق عمل ہونا چاہیے کیونکہ خود صدر کمیٹی نے لوگوں کے اس حق کو تسلیم کر لیا ہے۔اگر سب کمیٹی کے پاس مختلف لوگوں کی آراء آئیں گی تو وہ اُن پر ضرور غور کرے گی اور اگر معقول ہوں گی تو اُن کے متعلق اپنی رپورٹ میں سفارشات پیش کرے گی۔یہ سفارشات مجوزہ بجٹ میں کمی کے ساتھ بھی تعلق رکھ سکتی ہیں۔زیادتی کے ساتھ بھی تعلق رکھ سکتی ہیں اور بجٹ کی اندرونی تبدیلیوں کے ساتھ بھی تعلق رکھ سکتی ہیں بہر حال تمام باتوں پر غور کرنے کے بعد سب کمیٹی کہہ سکتی ہے کہ بجٹ کو اس شکل میں تبدیل کیا جائے اور یہ صورت زیادہ موزوں ہے بہ نسبت اس کے کہ اس جگہ بجٹ میں تبدیلی کرنے کے متعلق مشورے دیئے جائیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک نہایت ہی مفید تجویز ہے اور اس پر آئندہ سے عمل شروع کر دینا چاہیے سوائے اس کے کہ کوئی پرانا قانون اس کے خلاف ہو۔اس کے نتیجہ میں کمیٹی کے سامنے نہ صرف نظارتوں کے نمائندوں کی طرف سے بلکہ مختلف لوگوں کی طرف سے بھی بہت سی تجاویز آجائیں گی جن میں سے بعض معقول ہوں گی اور بعض غیر معقول۔کمیٹی سب تجاویز پر غور کر کے رپورٹ کرے گی کہ ہمارے نزدیک یہ یہ باتیں اس قابل ہیں کہ ان کے مطابق بجٹ میں تبدیلی کی جائے اور فلاں فلاں امور کو نظر انداز کر دیا جائے۔اس وقت جو باتیں پیش کی گئی ہیں اُن کا تفصیلی طور پر یہاں جواب نہیں دیا جا سکتا۔نتیجہ یہ ہوگا کہ نمائندگان غلط اثر لے کر جائیں گے اور وہ سمجھیں گے کہ بعض باتوں کا تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا حالانکہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو سب کمیٹی کے سامنے