خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 432

خطابات شوری جلد سوم ۴۳۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء ضائع کر دیتے ہیں۔جیسے عیسو نے مسور کی دال کی خاطر اپنا نبوت کا حق چھوڑ دیا اسی طرح بعض ملک کسی مامور کے آنے کی وجہ سے ماں بن جاتے ہیں لیکن بعض لوگ بیوقوفی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم قربانی کیوں کریں۔تب خدا تعالیٰ کہتا ہے۔اچھا! جب تم قربانی نہیں کرتے تو تم ماں بھی نہیں رہے۔در حقیقت خدا تعالیٰ بہت زیادہ دے رہا ہے اور اُس کے مقابلہ میں ہماری قربانی اور جدو جہد بہت کم ہے یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص دو پیسے میں گھوڑا دیدے۔اگر کوئی شخص کہے کہ میں دو پیسے نہیں دیتا تو اس سے زیادہ بیوقوف اور کون ہوگا۔غرض جہاں کوئی مامور پیدا ہوتا ہے خدا تعالیٰ وہاں کے رہنے والے لوگوں سے قربانی کرواتا ہے لیکن اُس کا جو بدلہ دیتا ہے وہ اُس قربانی کے مقابلہ میں بہت بڑا ہوتا ہے۔پس ان سب باتوں کو سمجھ کر قربانیاں کرو اور صدرانجمن احمدیہ کو بھی چاہیے کہ وہ آئندہ واضح طور پر بجٹ بنایا کرے تاکہ تمام باتیں پوری تفصیل کے ساتھ جماعت کے نمائندوں کے سامنے آجائیں“۔بجٹ سال نو اس کے بعد حضور نے سب کمیٹی بیت المال کو رپورٹ پیش کرنے کے لئے ارشاد فرمایا۔رپورٹ پیش ہونے پر حضور نے فرمایا: - اب بجٹ کے متعلق عام بحث ہو گی تا کہ اگر صیغہ جات میں کوئی نقص ہو یا ترقی کی کوئی صورت کسی کے ذہن میں ہو تو دوست اُسے پیش کر سکیں جو دوست اس بارہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتے ہوں وہ اپنے نام لکھوا دیں۔“ اس پر بعض ممبران نے اپنے نام لکھوائے اور اپنی آراء پیش کیں۔نیز بعض نمائندگان کے سوالات کے ناظر صاحبان نے جوابات دیئے۔جب بجٹ پر عام بحث ختم ہو چکی تو حضور نے فرمایا:- ”سب سے پہلے شیخ محمود الحسن صاحب نے جو کچھ کہا ہے میں اس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔یہ ایک نہایت ہی مفید تجویز ہے جس کی طرف پہلے ہمارا ذہن نہیں گیا در حقیقت جب بجٹ کے متعلق ایک سب کمیٹی مقرر کی جاتی ہے اور وہ غور کرنے کے بعد اُس پر تصدیق کی مہر لگا دیتی ہے تو اس کے بعد کسی فرد کا بجٹ کے متعلق کچھ کہنا زیادہ اہمیت نہیں رکھتا