خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 421
خطابات شوری جلد سوم ۴۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء بجٹ صدرانجمن احمدیہ کے بعض نقائص اور اس کا حل صدر انجمن احمدیہ کے بجٹ میں بھی نقائص ہیں جن کو دور کرنا چاہیے مثلاً ایک نقص یہ ہے کہ صدر انجمن احمدیہ کی آمد کے بعض حصے بجٹ میں نہیں دکھائے جاتے جیسے ریز روفنڈ ہے اُس کا روپیہ تجارت میں لگا ہوا ہے۔صدرانجمن احمد یہ کو اس کی آمد بجٹ میں دکھانی چاہیے جو اس وقت تک نہیں دکھائی جاتی اور اس وجہ سے آمد وخرچ کا صحیح بجٹ سامنے نہیں آتا۔اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض چندوں کی آمدن جب کم ہو جاتی ہے تو وہ آمدن خرچ کر لی جاتی ہے۔یہ خرچ تو بے شک سلسلہ کا ہے اور جائز ہے لیکن روپیہ ایسے رستہ سے داخل ہوتا ہے جس سے جماعتی نمائندے واقف نہیں ہوتے۔یہ جماعت کا کام ہے کہ وہ ریز روفنڈ کے متعلق مشورہ دے کہ آیا اُسے قرضے دور کرنے میں خرچ کرلیا جائے یا ہم اُسے تجارت میں ہی لگائے رکھیں ہر چیز کی کوئی نہ کوئی بنیاد ہونی چاہیے۔جماعت کی جائیدادوں کے مشرقی پنجاب میں رہ جانے کی وجہ سے اُسے کئی لاکھ کا نقصان پہنچا ہے۔آخر یہ نقصان بھی ہم نے پورا کرنا ہے۔ہوسکتا ہے کہ یہ تجویز ہو جائے کہ ریز رو فنڈ کو قرضے دور کرنے میں استعمال کر لیا جائے اور آئندہ نئی عمارتیں بنانے میں بھی اس سے مدد لی جائے بہر حال صدر انجمن احمدیہ کو یہ معاملہ جماعت کے سامنے رکھنا چاہیے اور اس بارہ میں اُسے جماعتی رائے معلوم کرنی چاہیے۔پھر قرض کی مد بجٹ میں نہیں رکھی جاتی تھی اس دفعہ میں نے یہ مد بھی رکھوائی ہے تا کہ جماعت کو اپنے قرضے کا علم ہو جائے اور وہ اس کو دور کرنے کی کوشش کرے۔جد و جہد کا صحیح جذ بہ اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب قرض کی تفصیل سامنے آجائے۔اگر جماعت کو معلوم ہی نہیں کہ کیا قرض ہے تو وہ اُس کے دور کرنے کے لئے کیا کوشش کرے گی۔بجٹ میں ان سب باتوں کا ذکر ہونا چاہیے۔ہماری جماعت کی تربیت خدا تعالیٰ کے فضل سے دوسروں سے زیادہ ہے اس لئے اس بات کا اندیشہ نہیں ہو سکتا کہ وہ قرض کو سن کر گھبرا جائے گی۔مثلاً سکول کی قیمت لگا لو اور اس کو قرضہ کے خانہ میں دکھاؤ۔قادیان میں زمین اتنی مہنگی ہو چکی تھی کہ ہم خود ہیں ہزار روپے فی کنال کے حساب سے زمین خریدنا چاہتے تھے تو زمین نہیں ملتی تھی۔وہاں سکول کی زمین