خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 414

خطابات شوری جلد سوم وو ۴۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء موجودہ حالات میں لڑکیوں کے رشتہ کے بارہ میں کوئی سہولت پیدا نہیں ہوئی بلکہ اب بھی وہی کیفیت ہے جو اس پابندی کے نفاذ کے وقت تھی۔پس ضروری ہے کہ اجازت سوائے خاص حالات اور اشد ضرورت کے نہ دی جائے اور اس امر کا فیصلہ زیادہ چھان بین کے بعد کیا جائے۔“ رپورٹ سننے پر حضور نے فرمایا: - اس تجویز کو مجلس میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔“ از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ ) اس کے بعد حضور نے اس بارہ میں ایک تقریر فرمائی جو درج ذیل کی جاتی ہے فرمایا : - لڑکیوں کے احمدی اور غیر احمدی رشتوں کا سوال در حقیقت ایمان، اخلاص اور قومیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ہماری جماعت میں جتنے احمدی ہیں چونکہ سارے کے سارے قریب العہد ہیں یہ نہیں کہ دو چار سو سال سے وہ احمدیت میں داخل ہوں حتی کہ ہمارا خاندان جو مرکزی حیثیت رکھتا ہے وہ بھی ایسا نہیں۔اس لئے ہم نے اپنے خاندان میں بھی دیکھا ہے کہ ہمارے غیر احمدی رشتہ دار اشاروں کنایوں میں بعض دفعہ اپنی لڑکیاں پیش کر دیتے ہیں، یہ تو انہیں خیال نہیں آتا کہ ہم ان سے اپنے لئے لڑکی مانگ لیں مگر یہ ضرور ہوتا رہتا ہے کہ جب ملنے آئیں گے تو باتوں باتوں میں کہہ دیں گے کہ فلاں لڑکا بڑا اچھا ہے جی چاہتا ہے کہ آپس میں رشتہ داری ہو جائے۔جب ہمارے خاندان میں ایسا ہوتا ہے تو باقی خاندانوں میں بھی ایسا ضرور ہوتا ہوگا کیونکہ اُنہیں بہر حال احمدیت میں داخل ہوئے ہم سے کم عرصہ ہوا ہے۔کسی نے پانچ سال بعد بیعت کی ہے، کسی نے دس سال بعد بیعت کی ہے اور کسی نے پندرہ سال بعد بیعت کی ہے پس اس سوال کی اصل بنیاد مذہبی احساسات اور قومی احساسات پر ہے۔کچھ لوگ ان احساسات سے اس قدر عاری ہو چکے ہیں کہ غیر احمدی لڑکیاں لینے کا سوال نہیں وہ غیر احمدیوں کو اپنی لڑکیاں بھی دے دیتے ہیں اور پھر بعض جماعتیں ان احساسات سے اتنی عاری ہیں کہ اُن کی آنکھوں کے سامنے جماعت کا ایک فرد اپنی لڑکی کی غیر احمدیوں میں شادی کر دیتا ہے اور وہ چپ کر کے بیٹھی رہتی ہیں اور کہہ دیتی ہیں کہ چلو جانے دو کسی کی شکایت کرنے کا کیا فائدہ ہے۔چنانچہ ایسی لڑکیاں بعض دفعہ مجھے بھی