خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 27

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء کہ چٹھیوں وغیرہ کا جواب دے دے مگر اس سے بڑھ کر کوئی اور کام کرنے کی اس میں اہلیت نہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ناظروں کو چھوٹے چھوٹے دفتری کاموں میں بھی حصہ لینا پڑتا ہے۔اس نقص کو دُور کرنے کے لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ بعض نائب ناظر مقرر کئے جائیں۔یہ نائب ناظر گریجوایٹ یا ایم اے ہوں گے اور اُن کا کام یہ ہوگا کہ دفتری کام کا تجربہ حاصل کریں اور رفتہ رفتہ اس کام کو سنبھال لیں جو ناظران سلسلہ کر رہے ہیں۔میری غرض اس سکیم سے یہ ہے کہ ان نائب ناظروں کے تقرر کے نتیجہ میں ناظر بالکل فارغ کر دیے جائیں تا کہ وہ سلسلہ کی ترقی کے لئے اصولی اور بنیادی امور پر غور کر سکیں اور ایسی سکیمیں تیار کریں جو ترقی کے لئے مفید ہوں۔اس مقصد کے لئے بجٹ میں چار رقمیں تجویز ہونی چاہئیں تا کہ شروع سال سے اس سکیم کے مطابق کام کیا جاسکے۔پھر یہ امر بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ میں دیہاتی مبلغین کو آجکل تعلیم دے رہا ہوں۔یہ لوگ مدرس بھی ہوں گے اور مبلغ بھی۔چھ مہینہ تک یہ لوگ فارغ ہو جائیں گے، پندرہ ، ہیں ان کی تعداد ہے، ان دیہاتی مبلغین کو بھی ہم نے بڑے بڑے قصبات میں تبلیغ اور درس و تدریس کے لئے مقرر کرنا ہے اور میرا ارادہ ہے کہ ایک ایک مبلغ کے سپرد پندرہ پندرہ ہیں ہیں گاؤں کر دیئے جائیں تا وہ ان کی نگرانی رکھے اور ان میں تبلیغ اور تعلیم کا سلسلہ جاری کرے۔ان کے لئے بھی بجٹ میں گنجائش رکھنی چاہئے کیونکہ جب یہ لوگ نکلیں گے انہیں صدر انجمن احمدیہ کے سپرد ہی کرنا پڑے گا۔اس کے ساتھ ہی یہ امر بھی نظر میں رکھنا چاہئے کہ ہم نے بجٹ کا توازن ایسا رکھنا ہے کہ پانچ چھ سال کے اندر اندر ہم پچیس لاکھ روپیہ کا ریز روفنڈ قائم کر سکیں تا کہ اگر کسی وقت ہماری مالی حالت کمزور ہو جائے یا یکدم کوئی زیادہ خرچ آجائے تو اس ریز روفنڈ سے مدد لی جا سکے۔یہ باتیں ہیں جن کو مدنظر رکھ کر بجٹ پر غور کرنا چاہئے۔“ دوسرا دن غیر احمدی لڑکیوں سے رشتہ ناطہ کی بابت نظارت امور عامہ کی طرف سے ایک یہ تجویز تھی کہ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء