خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 413

خطابات شوری جلد سوم ۴۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء حضور نے فرمایا:- دوستوں نے خادم صاحب کی تقریرین لی ہے اُن کا خیال ہے کہ جبکہ ربوہ میں ابھی تک ہماری عمارتیں بھی نہیں بنیں اور تعلیمی ادارے بھی یہاں نہیں آئے اس کا نفرنس کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا روپیہ ضائع چلا جائے گا اور جن فوائد کی اس کا نفرنس سے امید کی جارہی ہے وہ حاصل نہیں ہوں گے۔وہ کہتے ہیں ہم اس کانفرنس کے فائدہ سے گلی طور پر انکار نہیں کرتے ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ یہ موقع شناسی نہیں کہ ایسے موقع پر جبکہ ابھی ہماری مرکزی عمارات بھی شروع نہیں ہوئیں اس قسم کی کانفرنسوں پر روپیہ خرچ کرنا شروع کر دیا جائے۔یہ ترمیم نہیں بلکہ تجویز کی مخالفت ہے پس جو دوست یہ سمجھتے ہیں کہ باوجود یکہ ابھی ہمارا کالج نہیں بنا، ہمار ا سکول ابھی ربوہ میں نہیں آیا ہمیں ابھی سے یہ کا نفرنس شروع کر دینی چاہیے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ فیصلہ صرف ۱۹ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا :۔چونکہ اکثریت اس تجویز کی مخالف ہے اس لئے میں بھی اکثریت کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے اسے نا منظور کرتا ہوں۔“ غیر احمدی لڑکیوں سے شادی نظارت امور عامہ کی طرف سے ایجنڈا میں یہ تجویز درج تھی کہ : - در مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ آئندہ تین سال تک ( رشتہ ناطہ کی مشکلات کے پیش نظر ) بغیر منظوری مرکز غیر احمدی لڑکی سے شادی نہ کی جائے۔اس کے بعد ہر تین سال کے بعد اس فیصلہ میں توسیع ہوتی رہی۔آخری مرتبہ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء میں مزید تین سال کیلئے توسیع ہوئی تھی اب اس معاملہ کو مزید فیصلہ کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔چونکہ اب جماعتوں میں لڑکیوں کے رشتہ کے متعلق پہلے کی نسبت قدرے سہولت پیدا ہوگئی ہے اس لئے آئندہ مذکورہ بالا پابندی کو صرف مزید دو سال کے لئے جاری رکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے ،اس کے بعد اُس وقت کے حالات کے ماتحت مزید غور کے نتیجہ میں فیصلہ کیا جائے“۔ب کمیٹی امور عامہ نے اس بارہ میں یہ رائے دی کہ :-