خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 412
خطابات شوری جلد سوم ۴۱۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء میں بھی جلسے ہو گئے ہوں جیسے گذشتہ سال ہی ہم نے اپریل میں جلسہ کیا تھا مگر یہ ایک مجبوری کی بات تھی ورنہ اصل قانون یہی ہے کہ ۲۶۔۲۷ - ۲۸ / دسمبر کو جلسہ ہو۔یہ عارضی تبدیلیاں ایسی ہی ہوتی ہیں جیسے بیمار ہونے کی وجہ سے انسان نماز بیٹھ کر بھی پڑھ سکتا ہے یا دو نمازوں کو جمع بھی کر سکتا ہے لیکن بیٹھ کر نماز پڑھنا یا جمع کر کے نمازیں پڑھنا اصل قانون نہیں۔اصل قانون یہی ہے کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھی جائے اور الگ الگ نمازیں پڑھی جائیں۔پس اب تک جلسہ سالانہ کے ایام میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں وہ عارضی حالات کی وجہ سے ہوئی ہیں لیکن اب جو قانون بنے گا وہ مستقل ہوگا۔اگر ہم نے اس قانون کو بدل دیا تو حکومتیں سمجھیں گی کہ ان کا کوئی مقررہ دستور نہیں جب جی چاہے یہ اپنا جلسہ کر لیتے ہیں لیکن اگر ہم یہ کہیں گے کہ یہ ہمارا دستور ہے جو ہمارے بزرگوں نے قائم کیا ہے تو لازماً حکومت کو ہماری جماعت کے لئے سہولتیں بہم پہنچانی پڑیں گی اور اس طرح ہماری جماعت کا ایک وقار قائم ہو جائیگا۔بیشک اس وقت ہم تھوڑے ہیں لیکن اس بات پر قائم رہنے کا یہ لازمی نتیجہ ہوگا کہ حکومتوں کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جماعت احمدیہ کے لئے یہ ایام بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور وہ ہمیں سہولتیں بہم پہنچانے پر مجبور ہو جائیں گی۔“ احمدیہ تعلیمی کانفرنس کی تجویز سب کمیٹی کی دوسری تجویز یہ تھی کہ تمہر کے تیسرے ہفتہ میں ہر سال ایک احمدیہ تعلیمی کانفرنس منعقد کی جایا کرے جس میں تمام احمد یہ سکولوں، کالجوں اور دیگر علمی اداروں کے اساتذہ صاحبان کو شرکت کی۔دعوت دی جائے۔اس کے علاوہ بعض غیر احمدی معززین کو بھی اس کانفرنس میں مختلف موضوعات پر مقالہ جات پڑھنے اور اس کے اجلاسوں میں شرکت کے لئے بلایا جائے اور اس غرض کے لئے بجٹ میں دو ہزار روپیہ کی گنجائش رکھی جائے۔حضور نے اس تجویز کو پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ: - اصل غرض تو نظارت کی روپیہ مانگنا ہے ورنہ تعلیمی کانفرنس وہ خود بھی کر سکتے تھے بہر حال اُن کی تجویز دوستوں کے سامنے پیش ہے جو دوست اس کے خلاف کچھ کہنا چاہتے ہوں وہ اپنے نام لکھا دیں۔“ حضور کے اس ارشاد پر مکرم عبد الرحمن صاحب خادم نے اپنی رائے پیش کی جس کے بعد