خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 410

خطابات شوری جلد سوم ۴۱۰ تعلیمی سب کمیٹی کی تجاویز مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء پہلی تو یہ سب کمیٹی کی پہلی تجویز یہ تھی کہ جلسہ سالانہ کے ایام میں کوئی کمی نہ کی جائے تجویز بلکہ بدستور تین یوم ہی جلسہ رہے۔حضور نے دوستوں کے سامنے سب کمیٹی کی تجویز رکھتے ہوئے فرمایا :۔” دوستوں کے سامنے سب کمیٹی کی تجویز پیش ہے اصل سوال یہ تھا کہ چونکہ اب انگریزی حکومت کی طرح کرسمس کی رخصتیں نہیں ہوتیں بلکہ کم ہوتی ہیں اس لئے جلسہ سالانہ کی تاریخوں کے متعلق غور ہونا چاہئے کہ کیا انہی تاریخوں میں آئندہ جلسہ ہوا کرے یا ان تاریخوں کو بدل دیا جائے؟ سب کمیٹی کی تجویز یہ ہے کہ چونکہ دسمبر کے ایام میں کھانا محفوظ رہتا ہے اور بچا ہوا کھانا دوسرے وقت کام آ سکتا ہے اسی طرح سردی کی وجہ سے سب اکٹھے مل کر سو سکتے ہیں اور ریل کے سفر میں بھی آرام رہتا ہے اس لئے دسمبر کے ایام میں ہی جلسہ ہونا چاہیے اور بدستور تین یوم جلسہ ہونا چاہیے۔اگر کسی دوست نے اس تجویز کے خلاف کچھ 66 کہنا ہو تو وہ اپنا نام لکھوا دے۔“ کسی نے نام نہ لکھوایا۔حضور نے فرمایا :۔اب جو دوست اس تجویز کی تائید میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔۳۴۳ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا :- ۳۴۳ دوست اس تجویز کے حق میں ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ اکثریت تائید میں ہے۔میں بھی اکثریت کے حق میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ جلسہ سالانہ کے ایام میں کوئی کمی نہ کی جائے اور بدستور تین یوم ہی دسمبر کے ایام میں جلسہ منعقد کیا جایا کرے۔“ جلسہ سالانہ کی تواریخ کی بابت اس تجویز کی دوسری شق یہ تھی کہ جلسہ سالانہ کے لئے ۲۶ ، ۲۷، ۲۸ دسمبر کی تاریخیں ہی ہر لحاظ سے موزوں اور مناسب ہیں جب یہ تجویز مجلس مشاورت میں پیش ہوئی تو بعض نمائندگان شورای نے ۲۶،۲۵، ۲۷ / دسمبر کو جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی رائے دی جبکہ بعض نے یہ رائے دی که جلسه سالانه ۲۶ ، ۲۷، ۲۸ / دسمبر کو ہی ہوا کرے۔آراء شماری پر ۳۲۵ دوستوں نے