خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 409

خطابات شوری جلد سوم ۴۰۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء اب بدلے ہوئے حالات میں ہماری خواہ کوئی نیت ہولوگ سلسلہ کے خلاف پراپیگنڈا شروع کر دیں گے اور یہ کہنے لگ جائیں گے کہ جماعت احمدیہ نے مرکز کے حکم کے ماتحت گورنمنٹ کے فلاں فلاں نمائندوں کی مخالفت کی۔غرض دونوں طرف خطرات ہیں اور جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس بارہ میں پورے غور کے بعد اپنا مشورہ پیش کرے۔“ 66 حضور کی تقریر کے بعد بعض نمائندگان نے ترمیمات اور اپنی آراء پیش کیں جس پر سب کمیٹی نظارت امور عامہ نے اس تجویز کو دوبارہ ان الفاظ میں مرتب کر کے پیش کیا اسمبلی کے انتخابات میں اس امر کا فیصلہ کہ کس حلقہ میں کس امیدوار کی مدد کی جائے ہر حلقہ انتخاب کی جماعتیں باہمی مشورہ کے ساتھ اپنے اپنے حلقہ انتخاب کے متعلق کیا کریں گی اور ایسا فیصلہ قطعی ہوگا“۔آراء شماری پر ۳۲۵ دوستوں نے اس کی تائید میں اپنی رائے پیش کی۔حضور نے فرمایا:- میں کثرتِ رائے کے حق میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ اسمبلی کے انتخابات میں اس امر کا فیصلہ کہ کس حلقہ میں کس امیدوار کی مدد کی جائے ہر حلقہ انتخاب کی جماعتیں با ہمی مشورہ کے ساتھ اپنے اپنے حلقہ انتخاب کے متعلق کیا کریں گی اور ایسا فیصلہ قطعی ہوگا“۔فیصلہ نیز فرمایا :۔میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب پھر کہتا ہوں کہ اس کے صرف اتنے معنی ہیں کہ ہم مرکز کے تصرف کو اس بارہ میں آپ سے ہٹاتے ہیں اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم آپ کو مجبور کرتے ہیں کہ آپ اپنے معاملات میں کسی سے مشورہ نہ لیں۔بالکل ممکن ہے کہ آپ کے حالات ایسے ہوں کہ جب تک ضلع کے سب لوگ اکٹھے نہ ہوں آپ اپنی مشکلات کو حل نہ کر سکتے ہوں ایسی صورت میں آپ بے شک اکٹھے ہو جائیں اور مشورہ کریں اور اپنا الگ گروپ بنالیں۔اگر دو حلقوں والے سمجھیں کہ ہمارا اس وقت مل جانا زیادہ مفید ہوگا تو وہ دونوں حلقے آپس میں مل جائیں۔اگر تین حلقوں والے یہ چاہتے ہیں کہ وہ تینوں مل کر ایک گروپ بنالیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا اثر اس طرح بڑھ جائے گا تو وہ تینوں مل جائیں اس کا اُنہیں اختیار ہو گا صرف مرکز کی دخل اندازی کو ہم روکنا چاہتے ہیں۔“ 66