خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 400

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء کر دیں گے۔اب دیکھو یہ چیز کس حد تک پہنچ گئی۔مسلمانوں کے بگڑنے کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ معین صورت کے اعمال کے ترک کو برداشت کر لیا گیا قومی حفاظت ، وطنی حفاظت اور ملکی حفاظت یا جہاد کے لئے تیار ہونے یا تیار رہنے کا مسئلہ بھی معین احکام میں سے ہے اس کے بارہ میں اجتہاد سے کام نہیں لیا جا سکتا۔یہ رویت کا سوال ہے فلاں گیا ہے یا نہیں، فلاں نے گولی چلائی ہے یا نہیں، فلاں نے جنگ کی ہے یا نہیں، ان چیزوں کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بدظنی مت کرو شاید وہ جہاد کے لئے تیاری کر رہا ہو۔یہ چیزیں بدظنیوں میں سے نہیں بلکہ شواہد میں سے ہیں اور ان کے متعلق احتمالات نہیں ہوتے۔پس پیشتر اس کے کہ دوسرے مسائل پیش کئے جائیں میں جماعت کے دوستوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں کہ آیا وہ کم از کم کوٹہ سوا چھ فیصدی دیں گے یا نہیں ؟ اگر دیں گے تو کیسے دیں گے؟ اور کتنے عرصہ میں اس کی تکمیل شروع کر دیں گے؟ یہاں یہ سوال نہیں کہ ایسا ہونا چاہئے یا نہیں؟ یہ فضول بات ہو گی اور ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی کہے کہ نماز پڑھنی چاہیے یا نہیں۔جہاد سنت اللہ میں داخل ہے جہاد اصولی امور میں سے ہے اور سنت اللہ میں داخل ہے اور سنت اللہ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلاً اللہ تعالیٰ کی سنت میں ہرگز تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔اسی طرح قرآن کریم کہتا ہے کہ جب تک تم ان مواقع میں سے نہ گزرو گے جن میں سے پچھلے انبیاء کی جماعتیں گزریں تم برکتیں حاصل نہیں کر سکتے ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں بھی اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے پس یہ خیال مت کرو کہ ہم امتحان کے مواقع میں سے گزرے بغیر کامیاب ہو جائیں گے۔قرآن کریم نے اس چیز کو سنت اللہ قرار دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو سنت اللہ قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی سنت میں تم کبھی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔جس طرح ہر نبی کا کامیاب ہونا ضروری ہے خواہ وہ کہے یا نہ کہے کہ میں کامیاب ہوں گا۔اسی طرح جب کوئی جماعت یہ کہہ دیتی ہے کہ وہ کسی مأمور من اللہ کی جماعت ہے تو خواہ وہ کامیابی کا دعوی کرے یا نہ کرے ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ کامیاب ہوگی۔غرض یہ ایک غیر متبدل قانون ہے کہ ہر بانی سلسلہ کو تلواروں