خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 391

خطابات شوری جلد سوم ۳۹۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء اپنی عزتوں کی حفاظت کے لئے قربانی کرنی پڑے تو ہم اس میدان میں بھی سب سے بہتر نمونہ دکھانے والے ہوں اور دوسرے مسلمان ہمیں یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ مولوی ملک کی حفاظت کے وقت کچے ثابت ہوئے۔اور یہ کوئی بڑی بات نہیں ، کافر بھی بڑی بڑی قربانیاں کیا کرتے ہیں۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ ایک لڑائی کے موقع پر مسلمانوں کی طرف سے ایک شخص کفار پر حملہ آور ہوا اور اُس نے ایسی بے جگری کے ساتھ لڑائی کی اور اس طرح کفار کو تہہ تیغ کرنا شروع کیا کہ مسلمان اُس کو دیکھ دیکھ کر بے اختیار کہتے کہ خدا! اس شخص کو جزائے خیر دے، یہ اسلام کی کتنی بڑی خدمت سرانجام دے رہا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی نے اس دُنیا کے پردہ پر کوئی دوزخی دیکھنا ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات فرمائی تو صحابہ سخت حیران ہوئے کہ اتنی بڑی قربانی کرنے والے اور آگے بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے والے کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کس طرح فرما دیا کہ اگر کسی نے اس دُنیا کے پردہ پر کوئی دوزخی دیکھنا ہو تو وہ اسے دیکھ لے۔ایک صحابی کہتے ہیں میں نے کئی لوگوں کو اس قسم کی باتیں کرتے سُنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کیا فرما دیا اور میں نے سمجھا کہ ممکن ہے اس سے بعض لوگوں کو ٹھوکر لگے۔چنانچہ میں نے قسم کھائی کہ میں اس شخص کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا جب تک میں اس کا انجام نہ دیکھ لوں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں میں اُس کے ساتھ ساتھ رہا یہاں تک کہ وہ لڑتے لڑتے زخمی ہوا اور اُسے لوگوں نے اُٹھا کر ایک طرف لٹا دیا۔وہ درد کی شدت کی وجہ سے کراہتا تھا اور چیخیں مارتا تھا۔صحابہ اس کے پاس پہنچتے اور کہتے اَبُشِرُ بِالْجَنَّةِ تجھے جنت کی خوشخبری ہو۔اس پر وہ اُنہیں جواب میں کہتا۔ابشِرُونِی بِالنَّارِ۔مجھے جنت کی نہیں دوزخ کی خبر دو اور پھر اُس نے بتایا کہ میں آج اسلام کی خاطر نہیں لڑا بلکہ اس لئے لڑا تھا کہ میرا ان لوگوں کے ساتھ کوئی پرانا بغض تھا۔آخر وہ صحابی کہتے ہیں اُس نے زمین میں اپنا نیزہ گاڑا اور پیٹ کا دباؤ ڈال کر خود کشی کر لی۔جب وہ مر گیا تو وہ صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں پہنچے اور اُنہوں نے بلند آواز سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔آپ نے بھی جواب میں فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ