خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 390

خطابات شوری جلد سوم ۳۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء آپ نے فرمایا رستہ چھوڑ دو اور اُسے آنے دو۔جب وہ آگے بڑھا اور اُس نے حملہ کر دیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس کے وار کو روک کر اپنا نیزہ لمبا کر کے محض اُس کے جسم کو چھوا اور وہ اُسی وقت واپس لوٹ گیا۔لوگوں نے اُس سے کہا کہ تم تو اتنے بہادر تھے مگر آج تم نے کیا کیا کہ نیزہ اُدھر تمہارے جسم سے چُھوا اور اُدھر تم واپس لوٹ آئے۔اُس نے کہا تمہیں حقیقت نہیں معلوم تمہیں یہی نظر آ رہا ہے کہ وہ نیزہ میرے جسم سے چھوا ہے۔تم مجھ سے پوچھو جس کے نیزہ لگا ہے۔مجھے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دُنیا جہان کی ساری آگ میرے جسم میں بھر دی گئی ہے۔۔۔یہ ایک معجزہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا مگر بہر حال اس سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لڑائی سے نفرت کرتے تھے لیکن اس کے با وجود آپ کو لڑنا پڑا۔پس یہ خیال کرنا کہ ہم محبت اور پیار سے تبلیغ کرنے والے ہیں، ہمارے ساتھ کسی نے کیا لڑنا ہے یا یہ کہ ہمارا ملک صلح پسند ہے اس پر کسی نے کیا حملہ کرنا ہے محض جہالت ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر وقت اپنے آپ کو تیار رکھیں اور فوجی ٹرینگ حاصل کریں تا وقت پر اپنے ملک کی حفاظت کر سکیں۔پس جماعت کو اب یہ فیصلہ کر کے یہاں سے جانا چاہئے کہ وہ اپنے سارے نوجوانوں کو نکال کر فوجی ٹریننگ کے لئے بھجوائے گی ورنہ تم صاف طور پر کہہ دو کہ ہم احمدی نہیں۔تمہارا خالی چندے دے دینا کافی نہیں ہے۔ان چندوں کی تمہیں عادت ہو چکی ہے اور اس قسم کی قربانی تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔کنچنیاں ناچتی ہیں تو لوگ اُن کو ویلیں ڈالتے ہیں تم بھی کنچنیوں کو ویلیں ڈالنے والوں کی طرح چندہ دے رہے ہو ورنہ اگر تمہارے اندر حقیقی ایمان ہوتا تو وہ ہر موقع پر ظاہر ہوتا۔مال کی قربانی کے موقع پر بھی تم اپنے ایمان کا مظاہرہ کرتے اور جان کی قربانی کے موقع پر بھی تم اپنے ایمان کا مظاہرہ کرتے۔یہ سوال ہے جو آج میں نے مجلس شوریٰ میں پیش کر دیا ہے۔اس سوال پر اچھی طرح غور کرو اور سوچ سمجھ لو۔پانچ سو آدمی کا وہاں بیک وقت موجود رہنا تو ابھی ابتدائی قدم ہے ورنہ ہمارا جی چاہتا ہے کہ وہاں ہزار ہزار دو دو ہزار آدمی ایک وقت میں رہا کریں تا کہ جب کبھی جہاد کا موقع آئے یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق کہ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ وَعِرْضِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ہمیں اپنے ملک، اپنے اموال اور