خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 389

خطابات شوری جلد سوم ۳۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء اسلام نے ایمان کا اہم ترین حصہ قرار دیا ہے اُن میں سے ایک جہاد بھی ہے بلکہ یہاں تک فرمایا ہے کہ جو شخص جہاد کے موقع پر پیٹھ دکھاتا ہے وہ جہنمی ہو جاتا ہے اور جہاد میں کوئی شخص حصہ ہی کس طرح لے سکتا ہے جب تک وہ فوجی فنون سیکھنے کے لئے نہیں جاتا۔کشمیر کی جنگ کا شروع ہونا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اہم موقع تھا جس سے ہماری جماعت بہت کچھ فائدہ اُٹھا سکتی تھی بلکہ اب بھی اُٹھا سکتی ہے۔لیکن اگر کشمیر کی جنگ نہ ہوتی تب بھی ہماری جماعت کا فرض تھا کہ وہ فوجی فنون سیکھنے کے لئے اپنے نو جوانوں کو پیش کرتی تا کہ اگر براه راست پاکستان ہی پر حملہ ہو جاتا تو وہ اپنی قوم اور اپنے ملک کی حفاظت کا کام سرانجام دے سکتی۔ظاہر ہے کہ جو لوگ فوجی خدمت سے جی چراتے ہیں، اس وجہ سے جی چراتے ہیں کہ اُن کی اس کام سے جان نکلتی ہے حالانکہ دنیا میں جب بھی کوئی قیمتی چیز کسی کو ملے گی لوگ اُسے اس سے چھینے کی کوشش کریں گے۔حضرت عیسی علیہ السلام ساری عمر یہ کہتے رہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دو تے لیکن دشمنوں نے اُس شخص کی قوم پر بھی تلوار چلائی اور خود حفاظتی پر مجبور کر دیا۔اسلام کتنا صلح گل مذہب ہے مگر مسلمانوں کو حکومت ملی تو ان کے ملک کو تباہ کرنے کے لئے چاروں طرف سے دشمن کود پڑے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں بنی نوع انسان کی محبت اس قدر استوار تھی کہ گولڑائی میں سب سے زیادہ بہادر آپ سمجھے جاتے تھے مگر آپ دشمن کو اپنے ہاتھ سے مارتے نہیں تھے۔صرف لوگوں کو ہدایتیں دیتے تھے کہ اس اس طرح لڑائی کرو۔گویا آپ کا دل نہیں چاہتا تھا کہ لڑائی کریں لیکن چونکہ دشمن نے آپ کولڑنے پر مجبور کر دیا اس لئے آپ کو بھی اُس کے مقابلہ میں نکلنا پڑا۔صرف ایک دفعہ ایک دشمن نے اصرار کیا کہ آپ اُس سے لڑائی کریں اور آپ اُس کے مجبور کرنے پر اُس کے مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے۔مگر بعض دفعہ ایمان کے ساتھ محبت مل کر ایک عجیب مضحکہ خیز مثال پیدا کر دیتی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہادری اور جرات کا حال سب کو معلوم تھا مگر ایک لڑائی میں جب کفار کا ایک جرنیل مقابلہ کے لئے نکلا اور اُس نے چیلنج کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے مقابلہ کے لئے نکلیں تو صحابہ آپ کے گرد اکٹھے ہو گئے کہ آپ کی حفاظت کریں حالانکہ آپ اُن سے زیادہ بہادر تھے۔چنانچہ