خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 360
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء سے کم نہیں آنا چاہیے۔دوسرے الفاظ میں اس کے معنے یہ ہیں کہ ہمیں لاکھ چالیس ہزار روپیہ ہمارا سالانه چندہ ہونا چاہیئے مگر ہمارا حصہ آمد اور چندہ عام اس وقت صرف سات لاکھ ۴۵ ہزار ۸۴۷ روپیہ ہے گویا جماعت کے افراد نے جو خود آمد نیں لکھوائی تھیں وہ نہیں جو ہماری طرف سے تجویز ہوئی ہوں۔اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی ہمارے چندہ عام میں تیرہ لاکھ روپیہ کی کمی ہے۔حالانکہ میرے نزدیک صحیح طور پر جماعت کی آمدن کا اندازہ لگایا جائے تو ہیں لاکھ روپیہ سالانہ جمع ہونا چاہئے اور اگر وصیت پر زور دیا جائے اور پھر اس بات کو بھی دیکھا جائے کہ کئی ہیں جو تینتیس فیصدی کے حساب سے چندہ ادا کر رہے ہیں بلکہ بعض ایسے ہیں جو پچاس فیصدی کے حساب سے بھی چندہ دے رہے ہیں یہ اوسط بھی در حقیقت بہت کم رہ جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بارہا بیان کیا ہے جماعت کی آمد کا یہ اندازہ یقیناً غلط تھا مجھے یقینی طور پر ایسے لوگ معلوم ہیں جو اپنی بیان کردہ آمد سے پانچ پانچ چھ چھ سات سات گنے زیادہ آمد رکھتے ہیں اور اس لحاظ سے ہماری آمد بہت زیادہ ہونی چاہیئے لیکن اگر جماعت کی اپنی بیان کردہ آمد ہی لے لی جائے تب بھی ہیں لاکھ چالیس ہزار رو پیدا ایسا ہے جو ہر حالت میں ہمارے پاس آنا چاہیئے مگر اب ہمارے بجٹ کی بنیا دصرف ساڑھے سات لاکھ روپیہ کی آمد پر ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اگر صحیح طور پر کام کیا جائے تو تیرہ لاکھ روپیہ ہم اور ضروریات پر خرچ کر سکتے ہیں اگر اس قدر رو پیدا کٹھا نہ ہو سکے تب بھی تین چار لاکھ روپیہ سالانہ ایسا ضرور نکل سکتا ہے جسے سلسلہ کی عمارتوں پر ہم خرچ کر سکتے ہیں اگر اس طرح دو تین سال تک کوشش کی جائے تو ربوہ کی تعمیر کا کام خدا تعالیٰ کے فضل سے مکمل ہو سکتا ہے لیکن سردست ہمیں کم سے کم ایک لاکھ روپیہ کا اضافہ تعمیر ربوہ کے لئے ضرور کرنا چاہیئے اور تین لاکھ روپیہ اُن وعدوں کے سلسلہ میں اکٹھا کرنا چاہیئے جو مئی ۱۹۴۷ء کے شروع میں کئے گئے تھے اوّل تو کوشش کرنی چاہیئے کہ پورا چھ لاکھ روپیہ وصول ہو جائے لیکن اگر چھ لاکھ روپیہ وصول نہ ہو سکے تو کم سے کم تین لاکھ روپیہ کی وصولی اس سال ضرور ہو جانی چاہیئے۔میں سمجھتا ہوں اگر ہماری جماعت کے افراد خصوصاً زمیندار دوست توجہ کریں تو وہ آسانی سے ان وعدوں کو پورا کر سکتے ہیں آخر یہ واضح بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں زمینداروں کی آمدنیاں پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہیں پہلے