خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 359
خطابات شوری جلد سوم ۳۵۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء وصول نہ کر سکتے ہوں تو کم از کم تین لاکھ روپیہ تو اُنہیں ضرور وصول کرنا چاہیئے۔حقیقت یہ ہے کہ کام نو جوانوں کے ہاتھ میں آ گیا ہے اور ہمارے تجربہ کار بوڑھے اپنی کمزوری اور ضعف کی وجہ سے میدان چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں کام آ گیا ہے جو نا تجربہ کار ہیں نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کام اُس رفتار سے نہیں ہورہا جس رفتار سے ہونا چاہیئے۔ربوہ میں عمارتوں کی تعمیر کیلئے رقم ریز اور کھنے کی ضرورت دوسرے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں کچھ نہ کچھ رقم اور بھی رکھنی چاہیئے جو ربوہ میں عمارتوں کی تعمیر کے سلسلہ میں ہمارے کام آئے۔ان عمارتوں پر جو مرکزی دفاتر اور سلسلہ کے اداروں سے تعلق رکھتی ہیں دس بارہ لاکھ روپیہ صرف ہوگا اور اس کے لئے کسی زائد چندہ کی اپیل نہیں کی گئی اس لئے ضروری ہے کہ ہم اس مقصد کے لئے بھی کچھ روپیہ رکھیں اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کے مالی حالات یقیناً اس قسم کے ہیں کہ وہ آسانی سے اس بوجھ کو اٹھا سکتی ہیں۔حفاظت مرکز کے لئے جب ہم نے چندہ کی تحریک کی تو باوجود اس کے کہ جائداد کی قیمت کے صرف ایک فیصدی پر یا ایک ماہ کی آمد پر ان وعدوں کی بنیاد رکھی گئی تھی پھر بھی ساڑھے تیرہ لاکھ روپیہ کے وعدے آگئے۔اگر یہ تمام وعدے ایک ماہ کی آمد کے لحاظ سے ہی شمار کئے جائیں تب بھی ساڑھے تیرہ لاکھ روپیہ جماعت کی سالانہ آمد کا بارہواں حصہ بنتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی میں نے یہ بھی تحریک کی ہوئی ہے کہ جماعت کا کوئی فردایسا نہ رہے جو موصی نہ ہو اور وصیت کا کم از کم معیار آمد کا دسواں حصہ ماہوار دینا ہے اس کے علاوہ میری طرف سے یہ بھی تحریک ہے کہ دوستوں کو ساڑھے سولہ سے تینتیس فیصدی تک اپنے چندوں کو بڑھانا چاہیئے اور سینکڑوں لوگ ایسے ہیں جو اس تحریک کے ماتحت چندے ادا کر رہے ہیں۔کوئی ساڑھے سولہ فیصدی دے رہا ہے کوئی ۲۵ فیصدی دے رہا ہے۔کوئی ۳۳ فیصدی دے رہا ہے اور کوئی پچاس فیصدی دے رہا ہے۔ان تمام تحریکات کو مدنظر رکھتے ہوئے ساڑھے تیرہ لاکھ روپیہ کو اگر جماعت کی سالانہ آمد کا آٹھواں حصہ فرض کر لیا جائے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہماری جماعت کی طرف سے ماہوار چندہ ایک لاکھ ستر ہزار روپیہ