خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 358

خطابات شوری جلد سوم ۳۵۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء قصور ہے۔زمینداروں میں چونکہ تعلیم کم ہوتی ہے اس لئے وہ پورے طور پر مطالبہ کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے اس وقت تک میرے پاس منٹگمری۔لائکپور اور بعض دیگر اضلاع کے متعلق یہ رپورٹیں پہنچ چکی ہیں کہ انہوں نے ابھی تک اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا اور یہ بہت بڑے افسوس کا مقام ہے دوستوں کو چاہیئے کہ وہ اس غفلت کو دور کریں اور اپنے وعدوں کو جلد تر پورا کرنے کی کوشش کریں۔میں نظارت بیت المال کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ گو بجٹ میں انہوں نے گنجائش نہیں رکھی مگر میرے نزدیک مرکز کے وعدوں میں سے چھ لاکھ روپیہ کی جو رقم باقی ہے اُس میں سے کم سے کم تین لاکھ روپیہ کی رقم ایسی ہے جو اس سال ضرور وصول ہو جانی چاہیئے اور اس کی بجٹ میں گنجائش رکھنی چاہیئے۔اگر کوئی احمدی ایسا ہے جو ایسے خطرہ کے وقت میں بھی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اپنی جائیداد کی قیمت کا ایک فیصدی یا اپنی ایک ماہ کی آمد ادا کرنے کے لئے تیار نہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ایسے شخص کو فوراً الگ کر دینا چاہیئے۔شہری جماعتوں کی حالت بہت زیادہ افسوسناک ہے اور وہ اس لحاظ سے سخت غفلت کا ارتکاب کر رہی ہیں میں جب سے قادیان سے لاہور آ گیا ہوں تو تین ماہ کے بعد رپورٹیں طلب کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ لاہور کی جماعت نے حفاظت مرکز کے لئے پچاس ہزار کا وعدہ کیا تھا جس میں سے صرف پانچ ہزار روپیہ وصول ہوا ہے مگر یہ جماعت اس اطمینان کے ساتھ بیٹھی تھی کہ گویا قادیان تو گیا۔اب اس چندے کی ضرورت ہی کیا ہے۔اب بھی میں سمجھتا ہوں کہ ہزاروں کی رقم لاہور والوں کی طرف باقی ہوگی۔یہی حال بعض دوسرے شہروں اور زمیندار جماعتوں کا ہے مگر یہ کسی صورت میں بھی قوم کی زندگی کی علامت نہیں بلکہ اُس کے مُردہ ہونے کی علامت ہے اور اگر جسم کا کوئی حصہ مر جائے تو تمام ڈاکٹروں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اس حصہ کو کاٹ دینا چاہیئے ورنہ باقی حصہ بھی مردار ہو جائے گا اور انسانی جان ضائع چلی جائے گی پس ایک تو میں ناظر صاحب بیت المال سے کہوں گا کہ وہ تین لاکھ روپیہ کی رقم اس مد میں بڑھا دیں اوّل تو اُنہیں چھ لاکھ روپیہ پورے کا پورا وصول کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے جس کی مدت گزرے بھی دو سال ہو چکے ہیں لیکن اگر وہ چھ لاکھ روپیہ