خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 19

خطابات شوری جلد سوم ۱۹ کا شکوہ کرنے لگ جاتا کہ آپ نے مجھے کیوں کڑوی قاش دی ہے۔۔مشاورت ۱۹۴۴ء حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس قدر احسان ہوتا ہے، اس قدر احسان ہوتا ہے کہ اس کے بعد اگر وہ اپنے بندے سے کسی قربانی کا مطالبہ کرے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی حقیقی بندہ اس قربانی کو اپنے لئے تکلیف کا موجب سمجھے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ وہ اس قربانی کو بھی احسان سمجھتا ہے۔یہ خیال اپنے دل میں نہیں لاتا کہ خدا نے مجھے دکھ میں ڈال دیا ہے۔باقی رہا کسی مصیبت کے پہنچنے پر طبعی رنج سو اس کے اظہار سے شریعت نے منع نہیں کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک نواسہ فوت ہو گیا۔اُس کی آخری گھڑیوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی موجود تھے۔آپ کی آنکھوں میں اُس کی تکلیف کی حالت دیکھ کر آنسو ڈبڈبا آئے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف بھی آپ کے ساتھ تھے۔اُنہوں نے آپ کی آنکھ سے آنسوؤں کو بہتے دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ بھی روتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں میری آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ، دل غمگین ہے مگر میں اپنی زبان سے وہی کچھ کہتا ہوں جس کو میرا رب پسند کرتا ہے تو کسی رنج کے پہنچنے پر فطرت انسانی کا طبعی تقاضا بالکل اور چیز ہے۔بے شک اُس وقت رستا ہوا دل خون کے قطرات ٹپکاتا ہے مگر وہ خون کسی قربانی میں روک نہیں بن سکتا ، وہ رنج خدا تعالیٰ کے کلمہ کے اعلاء اور اُس کے دین کی اشاعت کی کوششوں میں قطعاً حائل نہیں ہوسکتا بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ جب انسان اپنے رنج کو بھول کر خدا تعالیٰ کے دین کے کام میں مصروف ہو جاتا ہے تو وہ خدا کو اور بھی پیارا معلوم ہونے لگتا ہے۔جس طرح لقمان نے کڑوی قاش کھا کر منہ نہیں بنایا تھا بلکہ وہ اپنے آقا کی مہربانی کی تعریف کرتا چلا گیا تھا۔اسی طرح اگر کوئی شخص خون ٹپکاتے ہوئے دل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کرتا ہے تو ایسی حالت میں جو مروڑ اور پیچ اس کے قلب میں پیدا ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کو بہت ہی محبوب نظر آتا ہے، کیونکہ خدا تعالیٰ کہتا ہے دیکھو میرا بندہ اس وقت بھی دین کی خدمت کر رہا ہے جب بہت سے لوگ ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔دیکھو غموں کی وجہ سے اس کی کمر خم ہے، اس کی آنکھیں نمناک ہیں، اس کا دل جذبات کا ایک تلاطم اپنے اندر لئے ہوئے ہے مگر وہ میری خاطر ، میرے دین کی خاطر، میری رضا کی خاطر اپنی جھکی ہوئی کمر سیدھی کر رہا ہے۔