خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 333
۳۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء خطابات شوری جلد سوم یہ بھی درست ہے جیسا کہ پرنسپل صاحب نے کہا کہ ہم مجبور ہیں کہ احمدی پروفیسر لائیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لائق پروفیسر پانچ پانچ سو ، سات سات سو ، بلکہ ہزار ہزار روپیہ بھی ماہوار لے رہے ہیں اور ہم تو ڈیڑھ ڈیڑھ اور سوا سوا سو روپیہ تنخواہ دے کر بھی مقروض رہتے ہیں۔یہ نقص اسی طرح دور ہو سکتا ہے کہ جماعت کے نوجوان قربانی کریں اور وہ اپنی زندگیاں سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کریں۔جماعت میں درجنوں نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کیں مگر کالج کے عملہ کے متعلق یہی سوال رہتا ہے کہ اُس کے لئے ہم کہاں سے پروفیسر لائیں ، مولوی عبد القادر صاحب نے کہا ہے کہ کچھ نو جوان آئے اور چلے گئے ، ہمیں دیکھنا چاہیے کہ وہ کیوں چلے گئے۔میں سمجھتا ہوں کہ پروفیسر صاحب سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ اُنہوں نے اس سوال کو چھیڑا کیوں کہ وہ نوجوان جن کا اشارہ ذکر کیا گیا ہے، گو اُن کو میں مخلص سمجھتا ہوں مگر اُن کے اخلاق کے متعلق اس کے جواب سے اچھا اثر نہیں پڑتا۔حقیقت یہ ہے کہ جانے والوں نے بعض معاملات میں انجمن سے کشمکش شروع کی اور میرے پاس بھی اُنہوں نے شکایتیں کرنی شروع کیں کہ انجمن ہمارے حقوق ہمیں نہیں دیتی۔میرا جیسا کہ دستور ہے، شروع شروع میں میں دخل نہیں دیا کرتا، صرف انجمن کو توجہ دلا دیا کرتا ہوں، میں نے انجمن کو لکھا کہ وہ اس معاملہ کی طرف توجہ کرے، بعد میں اُن نو جوانوں نے مجھے لکھا کہ ہماری سخت حق تلفی ہو رہی ہے اور آپ کے توجہ دلانے پر بھی کوئی توجہ نہیں کی گئی۔اس پر میں نے کالج کمیٹی کو لکھا کہ اتنے دنوں میں میرے پاس اس کے متعلق مکمل رپورٹ کی جائے ، اس پر انہوں نے مکمل رپورٹ مرتب کی اور لکھا کہ یہ حالات ہیں اور ہم مسل آپ کو بھجوار ہے ہیں۔میں نے وہ مسل پڑھی اور اُن تینوں نوجوانوں کو بلوایا ،صوبہ بڑا مخلص ہے مگر بدقسمتی سے یہ تینوں بہار کے تھے ، میں نے خود اُن کو بلایا ، اپنے سامنے بٹھایا اور کمیٹی کے ممبروں کو بھی بٹھایا۔مسل سے یہ بات صراحتاً ثابت تھی اور اگر قادیان سے مسل بچ کر آگئی ہو تو اُس میں سے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ان نوجوانوں نے سخت کلامی سے کام لیا پھر لطیفہ یہ ہے کہ کاغذات نکالے گئے تو ایک مقام پر انجمن نے کہا کہ ہم یہ معاملہ خلیفہ اسیح کے سامنے پیش کریں گے اور اُن کی طرف سے جواب آنے پر اس بارہ میں کچھ فیصلہ کیا جاسکے گا، اس پر تینوں نے نہیں بلکہ ایک نوجوان نے لکھا کہ خلیفتہ امیج کو اس سے کیا تعلق۔