خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 332

خطابات شوری جلد سوم عورتوں کا چندہ ۳۳۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء ایک سوال مستورات کے چندہ کے متعلق اُٹھا یا گیا ہے کہ اس دفعہ بجٹ میں دکھایا نہیں گیا ، نائب ناظر صاحب نے اس کا جواب دیا ہے، مگر میرے نزدیک وہ نہایت لغو جواب ہے ، وہ جواب یہ ہے کہ عورتیں چونکہ بڑی قربانی کرتی ہیں اور وصیت کرتی ہیں اس وجہ سے اُن کے عام چندے کم ہو جاتے ہیں ،اس وجہ سے وہ الگ دکھائے نہیں گئے تا کہ اُن کی قربانی کو بٹہ نہ لگے۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ عورتیں جو وصیت کرتی ہیں وہ بالعموم زیور اور مہر کی وصیت ہوتی ہے ماہوار آمدن کی وصیت نہیں کرتیں کہ اُن کے چندوں پر اُس کا اثر پڑ سکے ، پس یہ بات تو درست نہیں۔دوسرے اگر عزت کا ہی سوال ہے تو پھر مردوں کی عزت کو کیوں صدمہ نہیں پہنچتا وہ بھی وصیت کرتے ہیں اور اُن کے عام چندے بھی اس طرح کم ہو جاتے ہیں ،اگر مردوں کی وصیت کے باوجود اُن کے چندے الگ دکھائے جاتے ہیں تو عورتوں کی وصیت کے باوجود اُن کے چندے کیوں نہیں الگ دکھائے جاتے۔سیدھی بات تھی ، کہہ دیتے کہ غلطی ہوگئی ہے۔یہ کیا جواب ہوا کہ ہم نے بڑے اخلاق فاضلہ سے کام لیا کہ عورتوں کا چندہ نہیں دکھایا تا کہ اُن کی قربانی کو بٹہ نہ لگے۔خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کی پنشن ایک سوال خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کے متعلق کیا گیا ہے ،اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں یہ اصول ہے کہ جو شخص خدمت کرتے ہوئے کسی بلا میں مبتلا ہوتا ہے اُس سے عام پنشنروں والا سلوک نہیں کیا جاتا ، خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کی ستر ۷۰ سال سے زیادہ عمر تھی وہ سلسلہ کے کام کے لئے سخت گرمی کے موسم میں باہر گئے اور وہیں اُن پر فالج کا حملہ ہو گیا اس پر انجمن نے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ میرے حکم کے ماتحت یہ فیصلہ کیا کہ جب تک وہ بیمار ہیں اُن کو یہ رقم دی جائے۔قابل نوجوانوں کو زندگیاں وقف کرنے کی تحریک مولوی عبد القادر صاحب نے کالج کے متعلق بعض باتیں کہی ہیں جن کا پرنسپل صاحب نے جواب دیا، میں اس بات سے متفق ہوں کہ کالج کے پروفیسران کو زیادہ سے زیادہ لائق بنانے اور لائق پروفیسر رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور