خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 18
خطابات شوری جلد سوم ۱۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء علامت ہوتی ہے۔مثنوی رومی والوں نے حضرت لقمان کا ایک قصہ لکھا ہے کہ انہیں بچپن میں ہی ڈاکوؤں نے پکڑ کر فروخت کر دیا تھا۔جس شخص کے پاس وہ تھے چونکہ ہمیشہ دیانتداری اور محنت کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے وہ اُن سے بہت محبت رکھتا تھا ایک دفعہ ان کے آقا کے پاس کسی نے بے موسم کا خربوزہ تحفہ بھجوا دیا۔اس خربوزہ کی ظاہری شکل بہت اچھی تھی اور خیال کیا جاتا تھا کہ وہ اندر سے بہت میٹھا ہو گا۔حضرت لقمان چونکہ اپنے آقا کے بہت محبوب تھے اس لئے اُس نے خربوزہ کی قاش کاٹ کر سب سے پہلے حضرت لقمان کو کھانے کے لئے دی۔انہوں نے قاش لی اور ایسے مزے لے لے کر کھایا کہ آقا کو یہ خیال گزرا کہ یہ خربوزہ بہت ہی اعلیٰ درجہ کا معلوم ہوتا ہے کیونکہ لقمان اسے بڑے مزے سے کھا رہا ہے۔چنانچہ ایک کے بعد دوسری قاش اُس نے کائی اور وہ بھی حضرت لقمان کو دے دی۔انہوں نے پھر اسے اسی شوق اور اسی لطف کے ساتھ کھایا جس شوق اور لطف کے ساتھ انہوں نے پہلی قاش کھائی تھی۔یہ دیکھ کر اس نے تیسری قاش بھی حضرت لقمان کو دے دی اور پھر اس خیال سے کہ میں بھی تو چکھوں کہ یہ کیسا خربوزہ ہے ایک قاش کاٹ کر اپنے منہ میں ڈال لی۔اُس قاش کا منہ میں ڈالنا تھا کہ اُسے سخت متلی معلوم ہوئی کیونکہ وہ سخت بد مزہ اور کڑوی قاش تھی ، اتنی کڑوی اور اتنی بدبودار کہ اس کے کھانے سے گئے آتی تھی۔یہ دیکھ کر آقا لقمان کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے کہا کہ لقمان ! تو نے مجھے بڑا دھوکا دیا۔میں تو بار بار خربوزہ کی قاشیں تجھے اس لئے دیتا رہا کہ میں نے سمجھا یہ بڑی میٹھی قاشیں ہیں اور تو خود بھی ان قاشوں کو ایسے مزے لے لے کر کھاتا رہا کہ جس کی وجہ سے مجھے اس دھو کے کا لگ جانا بالکل طبعی امر تھا مگر جب میں نے ایک قاش اپنے منہ میں ڈالی تو اتنی بدمزہ نکلی کہ جس کی کوئی حد نہیں۔تم تو میرے عزیز اور پیارے ہو مجھے بہت ہی افسوس ہے کہ میں دھوکا کی وجہ سے تمہیں بار بار دُکھ دیتا رہا اور یکے بعد دیگرے ایسی قاشیں کھلاتا رہا جو سخت کڑوی اور بدمزہ تھیں۔حضرت لقمان کہنے لگے میرے آقا! آپ کے ہاتھ سے کتنی ہی میٹھی قاشیں میں نے آج تک کھائی ہیں۔پھر اگر اسی ہاتھ سے ایک کڑوی قاش میری طرف آ گئی تو مجھ سے زیادہ بے مہر اور بے مروت اور کون ہو سکتا تھا اگر میں اس کڑوی قاش کو ر ڈ کر دیتا اور آپ