خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 315
خطابات شوری جلد سوم ۳۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء کے لئے اس غیر درست وقت کو چنا جو در حقیقت ماتم کا وقت تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ نہ یہ عقیدہ چلا نہ وہ اور جو ہوشیار تھے وہ جائدادوں کو لوٹ کر لے گئے اور یہ آپس میں ہی لڑتے رہ گئے۔ان وجوہ سے ملک کو بہت نقصان پہنچا اور ہماری جماعت کے افراد میں سے بھی بہت سے بیکار ہو گئے اس لئے جہاں یہ درست ہے کہ بعض نے اپنی آمد نہیں بڑھائیں وہاں یہ بھی درست ہے کہ جماعت کا ۲۵۔۳۰ فیصد حصہ ایسا ہے جس کی طرف سے چندے آنے بند ہو گئے یا تقریباً بند ہو گئے اور جو آئندہ تین چار ماہ تک ایک محدود حد تک چندہ دینے کے قابل ہوں گے ورنہ در حقیقت وہ پورے طور پر ایک سال یا دو سال کے بعد تیار ہوں گے پس جہاں بعض لوگوں کی وجہ سے ہمارے چندوں میں اضافہ ہو ا وہاں کمی بھی ہوئی اور کمی بہت زیادہ ہوئی یہ اضافہ بھی جیسا کہ نائب ناظر صاحب نے بتایا ہے ، ایسا نہیں ہے جسے جماعت کی قربانی کے لحاظ سے خوش گن سمجھا جا سکے جن لوگوں کی تفصیلات میرے پاس آئی ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ ۱۰۰ میں سے ۴۳ ایسے ہیں جنہوں نے اضافہ کیا باقی ۹۵ - ۹۶ فیصدی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے چندے میں کوئی اضافہ نہیں کیا اول تو یہ اضافہ اُسی وقت مفید نتیجہ پیدا کر سکتا ہے جب ساری جماعت اس طرف توجہ کرے۔جیسا کہ بتایا گیا ہے ہمارا بجٹ آمد در حقیقت خیالی ہے اور سب کمیٹی نے بھی اس طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ آمد صحیح نہیں اتنی آمد کی ہم اُمید نہیں کر سکتے اور ابھی پچھلے قرضے بھی باقی ہیں جو ہم نے ادا کرنے ہیں۔موجودہ حالات میں ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہماری آمدنی چھ سات لاکھ روپیہ ہوگی اور ہمارا خرچ موجودہ اخراجات کے لحاظ سے بارہ لاکھ روپیہ ہوگا جب انجمن نے آٹھ لاکھ کا خرچ بتایا ہے تو درحقیقت اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس نے بہت سے اخراجات زبر دستی کاٹ ڈالے ہیں اور ابھی تھوڑے دن ہی گزریں گے کہ ناظر صاحب اعلیٰ صدرانجمن احمدیہ کا ریزولیشن پاس کروا کے مجھے بھجوا دیں گے کہ فلاں مد میں اتنا اضافہ منظور ہونا چاہیے اور فلاں مد میں اتنا اضافہ منظور ہونا چاہیے گویا نیک نامی اُنہوں نے آپ لے لی کہ خرچ بہت کم دکھایا گیا ، اور بدنامی مجھ پر ڈال دی گئی کہ خلیفتہ المسیح نے اتنا بجٹ بڑھا دیا۔ادھر موجودہ بجٹ کی منظوری کا میں اعلان کروں گا اور اُدھر اُن کی طرف سے درخواست آجائے گی کہ روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے ڈاک بند ہے۔فرمائیے ہم خطوط کا جواب دیں یا نہ دیں؟ یہ یقینی بات ہے کہ میں بھی کہوں گا کہ جواب دو۔اس پر وہ کہیں گے