خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 17

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء محبت تھی گو وہ دیسی محبت نہیں ہو سکتی تھی جیسے انبیاء اور ان کے خلفاء کے ساتھ لوگوں کو ہوتی ہے لیکن بہر حال وہ ایک والہانہ محبت تھی۔اس افسر کے یہ الفاظ اپنی زبان سے نکالنا تھا کہ اُن کو یہ یاد ہی نہ رہا کہ وہ انسان ہیں یا جانور ہیں یا اوپر سے دشمن گولیوں کا مینہ برسا رہا ہے۔وہ چیچنیں مارتے ہوئے بے تحاشا آگے کی طرف بڑھے اور دو گھنٹہ کی مجنونانہ جد وجہد کے بعد انہوں نے اس قلعہ کو فتح کر لیا اور اپنے افسر کو نہایت عزت اور احترام کے ساتھ اُس قلعہ کے اندر دفن کیا۔تو جس جگہ پر اعلیٰ درجہ کی محبت اور اُلفت ہوتی ہے وہ ادنیٰ درجہ کی محبتوں کو بالکل مٹا دیتی ہے اور انسان ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے پوری بشاشت اور صدق نیت سے تیار ہو جاتا ہے۔ہماری زندگی کا اولین مقصد ہمارے سامنے بھی ایک بہت بڑا مقصد ہے، بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہم پر عائد ہوتی ہے، خدا کے نام کو دنیا میں بلند کرنا اور اس کی توحید کو دنیا کے کونہ کونہ بلکہ انسانی قلب کے گوشہ گوشہ میں قائم کر دینا ہماری زندگی کا اولین مقصد ہے۔اور اس توحید کے جیسے غلام ہم ہیں ویسے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے ، ویسے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور ویسے ہی حضرت موسی ، حضرت عیسی اور خدا تعالیٰ کے دوسرے انبیاء خدا تعالیٰ کی توحید کے غلام تھے۔ازلی ابدی ہستی کے سامنے ایک انسان ہستی ہی کیا رکھتا ہے کہ وہ اس کی غلامی سے باہر رہ سکے۔اسی وجہ سے دنیا میں جس قدر چیزیں ہیں خواہ وہ ہمیں کس قدر خوبصورت نظر آئیں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ایسی ہی ہیں جیسے ایک سمندر کے مقابلہ میں بلبلہ ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی کمتر۔پس خدا تعالیٰ نے ہمارے سپر د ایک عظیم الشان کام کیا ہے اور جیسا کہ اُس کی سنت ہے مومنوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئی قسم کی آزمائشیں بھی آتی ہیں اور خدا تعالیٰ ان آزمائشوں کے ذریعہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ مومن کتنے پانی میں ہیں، وہ مجھ پر کتنا یقین رکھتے ہیں اور کتنی محبت اور اخلاص میرے ساتھ رکھتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فطرت انسانی اپنے پیاروں سے جُدا ہونے پر غم محسوس کرتی ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں که رنج والم کی گھڑیوں میں اپنے آقا کی رضا پر راضی رہنا اور اپنے آپ کو ہنسی خوشی اُس کی طرف سے آئی ہوئی تلخ قاش کے کھانے پر آمادہ کر لینا یہ بھی ایک بہت بڑے ایمان کی