خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 311

خطابات شوری جلد سوم فیصلہ ۳۱۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء میں کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں کہ ہر جماعت جس کا اوسط چندہ ماہوار کم از کم ۵۰۰ روپیہ ہے وہ لازمی طور پر مدرسہ احمدیہ میں تعلیم دلوانے کے لئے ایک طالب علم بھیجے اور اُس کے اخراجات خود برداشت کرے اور اگر طالب علم اُس کے پاس نہ ہو تو ایک طالب علم کا ماہوار خرچ ادا کرے اور تمام جماعتوں پر فی پانچ صدر و پیہ 66 چندہ ایک طالب علم یا اُس کے خرچ کے حساب سے ذمہ داری ڈالی جائے۔“ حضور نے مزید فرمایا: - میں سمجھتا ہوں اصل طریق یہی ہے کہ تدریجی طور پر جماعت کو کسی کام کی عادت ڈالی جائے اس طرح بشاشت قائم رہتی ہے اور کام کرنے کی روح ترقی کرتی ہے پس میں جماعت کی کثرتِ رائے کے مشورہ کو منظور کرتے ہوئے اس تجویز کو جاری کرنے کی ہدایت صدرانجمن احمدیہ کو دیتا ہوں مگر ماہوار خرچ کی اوسط جو ۲۰ روپیہ مقرر کی گئی ہے یہ درست نہیں اوسط خرچ کم سے کم ۲۵ روپیہ ماہوار ہونا چاہیے۔القرآن کلاس میں نمائندگان بھجوانے نظارت تعلیم و تربیت کی دوسری تجویز یہ تھی که تعلیم القرآن کلاس کے فائدہ کو وسیع 66 اور مستورات کی شمولیت کی بابت کرنے کے لئے تاکہ زیادہ سے زیادہ احباب ان ایام میں تشریف لا کر شمولیت کرسکیں جماعتیں یہ ذمہ داری لیں کہ ہر جماعت جس کے بالغ افراد کی تعداد ایک سو یا اس سے زیادہ ہے وہ اپنی مقامی جماعت میں تحریک کر کے اس کلاس کی شرکت کے لئے کم از کم تین نمائندے بھجوائے“۔سب کمیٹی نے مندرجہ بالا تجویز حسب ذیل ترمیم کے ساتھ متفقہ طور پر منظور کی تعلیم القرآن کلاس کے لئے جماعتیں یہ ذمہ داری لیں کہ ہر جماعت تحریک کر کے اس کلاس میں شرکت کے لئے مندرجہ ذیل نسبت سے نمائندے بھجوائے۔ا۔۵۰ افراد تک ایک نمائندہ ۲ ۱۰۰ افراد تک دو نمائندے۔۱۰۰ سے اوپر کی جماعت کے لئے تین نمائندے