خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 310
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء طالب علم ہر وقت مدرسہ احمدیہ میں تعلیم پارہا ہو گا ایسی جماعتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے گل ۲۷ طلباء مدرسہ احمدیہ کے لئے مہیا ہو سکتے ہیں۔مندرجہ بالا ترمیم کے حق میں دس آراء تھیں لیکن تین ممبران سب کمیٹی کی یہ رائے تھی کہ -۲۵۰۱ روپیہ کی بجائے - ۵۰۰۱ روپیہ ماہوار کا معیار رکھنا ہی مناسب ہوگا۔(اس صورت میں گل طلباء کی تعداد دس گیارہ ہوگی ) ایک ممبر کی رائے یہ تھی کہ چندہ کے معیار کو ۱۰۰۰ روپیہ ماہوار تک کر دیا جائے۔کثرتِ رائے سے فیصلہ ہوا کہ مندرجہ بالا ترمیم کے منظور کئے جانے کے بارہ میں سفارش کی جائے۔کمیٹی کی یہ تجویز جب مجلس مشاورت میں پیش ہوئی تو مکرم ملک عبدالرحمن صاحب خادم نے سب کمیٹی کی تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے یہ ترمیم پیش کی کہ :- در جس جماعت کا اوسط چندہ پانچ صد روپیہ ماہوار ہو وہ ایک طالب علم اور اُس کا خرچ دے اور اگر اُس کے پاس طالب علم نہ ہو تو اُس کا خرچ دے اور اُس کے اُوپر فی پانچ صد روپیہ چندہ ایک طالب علم یا اُس کے خرچ کے حساب سے ذمہ داری ڈالی جائے“۔حضور نے فرمایا: - چونکہ ترمیم کا پہلے پیش ہونا ضروری ہوتا ہے اس لئے سب کمیٹی کی تجویز پیش کرنے سے پہلے میں اس ترمیم کے متعلق دوستوں سے رائے دریافت کرنا چاہتا ہوں جن دوستوں کی یہ رائے ہو کہ پانچ سو روپیہ ماہوار یا اس سے زیادہ چندہ دینے والی جماعتوں پر یہ پابندی عائد ہونی چاہیے کہ وہ مدرسہ احمدیہ کے لئے ایک طالب علم اپنے خرچ پر پڑھنے کے لئے بھیجیں اور اگر طالب علم موجود نہ ہو تو ایک طالب علم کا ماہوار خرچ برداشت کریں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۲۸۲ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا: - اب وہ دوست جو اس بات کی تائید میں ہوں کہ اڑھائی سو روپیہ ماہوار یا اس سے 66 زیادہ چندہ دینے والی جماعتوں پر یہ پابندی عائد ہونی چاہیے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ صرف ۳۲ دوست کھڑے ہوئے۔فرمایا : -