خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 309
خطابات شوری جلد سوم ۳۰۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء چیز کا تعلق گلی طور پر خلافت کے ساتھ ہے تو پھر صدرانجمن احمدیہ کو بیان کرنا چاہیے کہ س کا تعلق براہ راست خلیفہ سے ہے اس لئے ہم نے وہ سوال خلیفہ وقت کو بھجوا دیا ہے۔تیسری صورت یہ ہے کہ وہ امر صدر انجمن احمدیہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہو۔ایسی صورت میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم اس کو پیش کرنے کی اجازت نہیں دیتے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ہم نے معاملہ متعلقہ محکمہ کے سپر د کر دیا ہے اور وہ خود اس کا فیصلہ کرے گا۔چوتھی صورت یہ ہے کہ اُس کا تعلق شوری کے ساتھ تو ہو مگر ایجنڈا لمبا ہو اور وقت کم اس لئے فیصلہ کیا جائے کہ آئندہ سال اس کو پیش کیا جائے۔ان چار صورتوں میں سے کوئی نہ کوئی صورت چونکہ ضرور ہوتی ہے اس لئے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ان تجاویز کو ہم نے پیش کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ تصریح کے ساتھ بتانا چاہیے کہ ان چار صورتوں میں سے کون سی صورت تھی اور کیا رویہ اختیار کیا گیا۔اس طرح سے تجویز پیش کرنے والا شخص یا ادارہ تسلی پا جائے گا اور وہ سمجھے گا کہ میری تجویز کو بلا وجہ رڈ نہیں کیا گیا بلکہ جو مناسب طریق تھا وہ اختیار کیا گیا ہے۔“ جس جماعت کا اوسط چندہ ماہوار کم از کم ۵۰۰ روپیه هووه نظارت تعلیم وتربیت کی طرف سے ایک تجویز یہ پیش کی گئی مدرسہ احمدیہ میں تعلیم دلوانے کے لئے ایک طالبعلم لازمی بھیجے تھی کہ :- ہر جماعت جس کا اوسط چندہ ماہوار کم سے کم پانچ سو روپیہ ہے لازمی طور پر مدرسہ احمدیہ کے لئے ایک طالب علم پڑھنے کے لئے قادیان بھیجے یا ایک طالب علم کا ماہوار خرچ جو اوسطاً ہیں روپیہ ماہوار ہے ادا کرے“۔سب کمیٹی نظارت تعلیم و تربیت میں یہ ترمیم پیش ہوئی کہ اس تجویز کو مندرجہ ذیل صورت میں پیش کیا جائے :- ’ہر جماعت جس کا اوسط چندہ ماہوار کم از کم ۲۵۰ روپیہ ہے لازمی طور پر مدرسہ احمدیہ کے لئے ایک طالب علم اپنے خرچ پر پڑھنے کے لئے قادیان بھیجے یا ایک طالب علم کا ماہوار خرچ جو اوسطاً ہمیں روپیہ ہے ادا کرے گویا اس لحاظ سے ہر ایسی جماعت کی طرف سے ایک