خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 304

۳۰۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء خطابات شوری جلد سوم مادہ پیدا ہوگا اور اُن میں سے کئی سعید الفطرت لوگ احمدیت کو قبول کر لیں گے۔لاہور اور دہلی میں درجنوں محلے ایسے ہیں جن میں کوئی احمدی نہیں حالانکہ سب محلوں میں دو دو چار چار احمدی ضرور ہونے چاہئیں اور اگر ایسا ہو تو احمدیت بہت جلد بڑھ سکتی ہے۔پس گاؤں والوں کو نئے نئے گاؤں میں احمدیت پھیلانی چاہیے اور شہر والوں کو نئے نئے محلوں میں احمدیت پھیلانی چاہیے یہاں تک کہ کوئی گاؤں ، کوئی شہر اور کوئی محلہ ایسا نہ ہو جس میں ہماری جماعت با قاعدہ قائم نہ ہو اور جہاں تبلیغی جلسے وغیرہ نہ ہوتے ہوں۔باقی جلسہ سالانہ پر میں نے جماعت کو جو نصائح کی تھیں اُن کی طرف بھی ہمارے دوستوں کو توجہ رکھنی چاہیے بالخصوص نماز با جماعت کی پابندی اور لجنہ اماءاللہ کا قیام یہ نہایت ضروری باتیں ہیں۔اسی طرح محنت کی عادت اور سچائی کو اپنا شعار بنانا۔ان امور کی طرف بھی ہمیشہ توجہ رکھنی چاہیے۔اب میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ اس نہایت ہی نازک زمانہ میں ہمیں اپنے فرائض پوری خوش اسلوبی سے سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم پر ایسا فضل نازل کرے کہ جب ہم اس خطرہ کی حالت سے باہر نکلیں تو ہماری حالتیں پہلے سے بہت زیادہ اچھی ہوں۔ہماری شوکت پہلے سے بڑھی ہوئی ہو۔ہماری عظمت پہلے سے بدرجہا بڑھ کر ہو۔ہماری تعداد پہلے سے کئی گنا زیادہ ہو۔ہماری اقتصادی حالت پہلے سے بہت بڑھ چڑھ کر ہو۔ہماری علمی حالت پہلے سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہو، تا کہ جب آفات و مصائب کا بادل چھٹے تو دنیا یہ کہنے پر مجبور ہو کہ جو چیز دنیا کے لئے عذاب بن کر آئی تھی وہ جماعت احمدیہ پر رحمت کی بارش بن کر برسی۔وَآخِرُ دَعُونَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء) لى اشاعة السنة جلد ۳ انمبر اصفحه ۴،۳۔مطبوعہ ۱۸۹۰ء کے تذکرہ صفحہ ۱۹۸ ایڈیشن چہارم نسائی کتاب النکاح باب كراهية تزويج العقيم الاعلى : ١٠