خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 16
خطابات شوری جلد سوم ۱۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء کے سپاہی قلعہ کو سر کرنے کے لئے پہاڑ پر چڑھنے لگتے تو اوپر سے دشمن گولیوں کا مینہہ برسانا شروع کر دیتا۔ان کا نیچے ہونے کی وجہ سے نشانہ ٹھیک نہیں بیٹھتا تھا لیکن دشمن کی تمام گولیاں بوجہ اوپر ہونے کے عین نشانہ پر لگتیں۔پھر وہ چوٹی ایسی تھی جو بالکل سیدھی تھی اور جس پر سپاہیوں کو گھٹنوں کے بل چڑھنا پڑتا تھا۔غرض ان کی تو یہ حالت تھی کہ یہ بڑی آہستگی سے گھٹنوں کے بل اوپر کی طرف چڑھتے مگر دشمن آسانی سے ان کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنا لیتا۔نتیجہ یہ ہوا کہ یکے بعد دیگرے سپاہی ہلاک ہونے لگ گئے مگر انہوں نے پھر بھی ہمت نہ ہاری جو زنده زندہ رہے وہ گرتے اور گر کر پھر سنبھلتے اور چڑھنے کی کوشش کرتے یہاں تک کہ اس کوشش میں کئی سپاہیوں کے ناخن تک اُتر گئے اور اُن کے گھٹنے بالکل لہولہان ہو گئے۔اُس وقت سپاہیوں نے اپنے افسر سے کہا کہ ہمیں اجازت دیں کہ اس وقت اپنے بُوٹ اُتار دیں مگر اس افسر نے کہا بُوٹ اُتارنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ بُوٹ اُتارنا فوج کے قانون کے خلاف ہے آخر سپاہی اسی حالت میں اوپر کی طرف چڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔سینکڑوں مر گئے اور جو باقی بچے وہ اپنی کوشش میں مشغول رہے، یہاں تک کہ وہ نصف سے زیادہ فاصلہ طے کر گئے۔جب وہ نصف سے زیادہ فاصلہ طے کر چکے تو یکدم ایک گولی آئی اور اُس کرنیل کے سینہ میں لگی اور گولی لگتے ہی وہ گر پڑا۔یہ حالت دیکھتے ہی سپاہی اپنے افسر کی طرف دوڑے کیونکہ وہ بڑی محبت اور شفقت کرنے والا افسر تھا اور ان کے لئے یہ بالکل نا قابل برداشت تھا کہ وہ افسر جس پر وہ اپنی جان تک فدا کرنے کے لئے تیار رہتے تھے اُن کے سامنے دم توڑ رہا ہو۔وہ اُسی وقت اُس کی طرف گئے تا کہ وہ اس کو اٹھا کر کسی محفوظ مقام پر لے جائیں اور اُس کی زندگی کی آخری گھڑیوں کو آرام دہ بنا دیں۔جب وہ سپاہی اُس کے قریب پہنچے اور انہوں نے اپنے افسر کو اٹھانا چاہا تو وہ افسر اُن سے کہنے لگا میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ تم میرے جسم کو ہاتھ مت لگاؤ۔تم میری لاش کو کتوں اور چیلوں کے لئے چھوڑ دو کہ وہ آئیں اور میرے گوشت کو نوچ نوچ کر کھا جائیں۔ہاں اگر تم مجھے دفن کرنے کا شوق رکھتے ہو تو پھر میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اس قلعہ کے اندر دفن کرو اگر تم مجھے اس قلعہ کے اندر دفن کرنے میں کامیاب ہو جاؤ تب تو بے شک میرے جسم کو ہاتھ لگا لینا ورنہ کتوں اور چیلوں کے لئے چھوڑ دینا۔اُن سپاہیوں کو اپنے افسر سے جس قسم کی