خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 294

خطابات شوری جلد سو ۲۹۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء بعد منہائی اخراجات لازماً ہر شخص کو خزانہ صدر انجمن احمد یہ میں داخل کرنا پڑے گا لیکن میرے اس موجودہ اعلان اور اُس پہلے اعلان کے درمیانی عرصہ میں، جس میں فروخت کنندہ کو صرف دس فیصدی رقم خزانہ صدر انجمن احمدیہ میں داخل کرنے کا قانون پاس کیا گیا تھا، اگر کوئی سو دے ہو چکے ہوں تو اُن سے قیمت کا صرف دس فیصدی لیا جائے گا۔اس قانون کے ماتحت قادیان میں زمینوں کی قیمتیں بھی کم رہیں گی اور ہماری یہ مذہبی غرض کہ قادیان کی آبادی میں ترقی ہو یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے پوری ہوتی چلی جائے گی اور خالص تجارتی لوگ زمین کی قیمتوں کو خراب نہیں کر سکیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ قادیان میں زمینوں کی قیمتیں بڑی آسانی سے اس قدر مل جاتی ہیں کہ بیچنے والے کو دس فیصدی نفع حاصل ہو جاتا ہے اور دس فیصدی نفع عام تجارتوں میں کہاں حاصل ہوتا ہے۔مجھ سے ایک دوست نے جو تاجر ہیں ایک دفعہ بیان کیا کہ اگر مستقل کام ہو بہت بڑی رقم تجارت پر لگائی گئی ہو اور تین فیصدی نفع حاصل ہو تو ہم اس کو بھی بہت بڑا نفع سمجھتے ہیں۔مگر قادیان میں زمینوں کی فروخت سے لوگوں کو دس فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ نفع حاصل ہوسکتا ہے۔بیشک میرا یہ اعلان بعض لوگوں کی طبائع پر گراں گزرے گا کیونکہ پہلے وہ خود سارا نفع کھاتے تھے اور اب اُنہیں نصف خزانہ صد را انجمن احمد یہ میں داخل کرنا پڑے گا مگر ہمارا فرض ہے کہ جو شخص محض دین کے لئے قادیان آتا ہے اُسے ستی سے ستی زمین لے کر دیں اور جو شخص نفع حاصل کرے وہ نصف منافع مرکز کی حفاظت اور خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے پیش کرے کیونکہ اُسے جو بھی منافع حاصل ہوا ہے محض اس لئے ہوا ہے کہ آنے والے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے ماتحت آئے اور اُنہوں نے زمین خریدی پس اُس کے منافع میں خدا تعالیٰ کا قائم کردہ سلسلہ بھی شریک ہے۔چوتھی بات میں نے یہ بیان کی تھی کہ جب تک یہ روپیہ اکٹھا نہیں ہوتا تمام دوستوں کا فرض ہے کہ ان میں سے جس جس کے پاس کوئی روپیہ جمع ہو خواہ گھر میں جمع ہو یا کسی بینک میں وہ فوراً اس روپیہ کو نکلوا کر قادیان خزانه صدرانجمن احمد یہ میں امانت کے طور پر جمع کرا دیں۔کل میں نے دوستوں سے وعدے لئے تو وہ تین لاکھ اسی ہزار تک پہنچ گئے تھے اور ابھی اور بھی بعض دوستوں نے وعدے کئے تھے جو اس تین لاکھ اسی ہزار میں شامل نہیں