خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 15

خطابات شوری جلد سوم ۱۵ مشاورت ۱۹۴۴ء آپ کی وفات کا ذکر کرتا ہے۔فرماتا ہے مَا مُحمد إِلَّا رَسُوْلُ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ آفَائِن مات أقيل انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ " ارے محمد کیا ہیں؟ میرے ہی ایک رسول تو ہیں۔اگر وہ مر جائیں یا مار دیئے جائیں تو کیا تم یہ سمجھنے لگ جاؤ گے کہ اب اسلام کی فتح نہیں ہو سکتی۔یہ کام کسی انسان کا نہیں میرا ہے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے ہیں تو محض اس لئے کہ اُنہوں نے دوسروں سے زیادہ دین کی خدمت کی اور دوسروں سے زیادہ قربانی اور ایثار سے کام لیا لیکن اگر یہ مر جائیں تو تمہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، خدا تعالیٰ ان کے خادموں میں اور آدمی کھڑے کر دے گا جو دینِ اسلام کی مدد کریں گے۔دیکھو! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنے عظیم الشان انسان ہیں۔اگلوں اور پچھلوں تمام لوگوں کے آپ سردار ہیں ، نہ صرف عام لوگوں کے بلکہ تمام گزشتہ انبیاء اور بعد میں آنے والے انبیاء کے بھی آپ سردار ہیں مگر کس استغناء سے اللہ تعالیٰ ذکر فرماتا ہے۔که آفائِن مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِکُم۔اگر یہ مر جائیں یا مار دئیے جائیں تو کیا تم ان کی موت پر کمزوری کا اظہار کرنے لگ جاؤ گے اور کہو گے کہ ہائے یہ کیا ہو گیایا آئندہ کیا ہو گا۔ہونا کیا ہے ہم خود دینِ اسلام کے محافظ اور نگران ہیں، کسی انسان کی موت خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت میں روک نہیں بن سکتی۔مجھے ایک نہایت ہی پیارا واقعہ بار بار یاد آیا کرتا ہے۔معلوم نہیں وہ آدمی جس کا ذکر کیا جاتا ہے متقی بھی تھا یا نہیں ، مگر بہر حال اُس نے قربانی کا ایک شاندار نمونہ دکھایا۔اور نمونہ ایک ایسی چیز ہے جو ہر جگہ کام دے سکتا ہے۔دنیا کا نمونہ دین میں کام آجاتا ہے اور دین کا نمونہ دنیا میں کام آجاتا ہے۔یونان کی جب جنگ ہوئی تو پہاڑ کی چوٹی پر دشمن کا ایک قلعہ تھا جس کو فتح کرنا ترکوں کے لئے بڑا مشکل ہو گیا۔آخر اُس قلعہ کو سر کرنے کا کام ایک کرنیل کے سپرد کیا گیا۔وہ اپنی فوج سے انتہاء درجہ کی محبت اور پیار کا سلوک کرنے والا تھا اور سپاہی بھی اُس سے ایسی محبت رکھتے تھے کہ اُس کے پسینے کی جگہ خون بہانے کے لئے تیار رہتے تھے۔وہ کر نیل اپنے سپاہیوں کو لے کر اُس قلعہ کو فتح کرنے کے لئے آگے بڑھا مگر چونکہ وہ قلعہ چوٹی پر تھا اور فوج کو نیچے سے اوپر کی طرف چڑھنا پڑتا تھا اس لئے جب فوج