خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 293
خطابات شوری جلد سوم ۲۹۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء اپنی جائیداد یا آمد وقف نہیں کی ان کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ انہیں تحریک وقف میں حصہ لینے کی تلقین کی جائے۔اگر وہ اپنی جائیداد یا آمد کو دوسرے واقفین کی طرح سلسلہ کے لئے وقف کر دیں تو اُن پر بھی وہی قانون حاوی ہوگا جو اوپر بیان ہو چکا ہے لیکن جو لوگ تحریک کے باوجود اس میں حصہ نہ لیں وہ قربانی کرنے والوں کی صف اول میں شریک نہیں ہو سکتے اُن سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی جائیداد کی مالیت کا ۱/۲ فیصدی یا ماہوار آمد کا نصف اس غرض کے لئے پیش کر دیں مثلاً ایک شخص کے پاس ایک مربع زمین ہے اور اُس نے سلسلہ کے لئے اُسے وقف کیا ہوا ہے اب اگر اُس کی ۲۵ ہزار روپیہ قیمت ہے تو ایک فیصدی کے لحاظ سے اڑھائی سو روپیہ اور ۱/۲ فیصدی کے لحاظ سے سو اسو روپیہا سے خزانہ صدر انجمن احمدیہ میں داخل کرنا پڑے گا اسی طرح اگر کسی کی دوسو روپیہ تنخواہ ہے اور اس نے ایک ماہ کی آمد وقف کی ہوئی ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دوسو رو پید ادا کرے۔اور اگر اس نے آمد وقف نہیں کی تو وہ سو روپیہ ادا کرے۔ساتھ ہی میں نے ہدایت کی ہے کہ ہر احمدی کے پاس جاؤ اور اُس سے جائیداد یا آمد وقف کراؤ کیونکہ اس کے بغیر ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے مصیبت کے وقت ہم اپنے فوری اخراجات کو مہیا کر سکیں۔دوسری تجویز میں نے یہ بتائی ہے کہ وصیت پر زور دو اور جہاں جہاں جاؤ اس کے لئے پورا زور صرف کر دو یہاں تک کہ کوئی احمدی مرد اور عورت ایسا نظر نہ آئے جس نے وصیت نہ کی ہو۔قادیان میں زمین فروخت کرنے تیسری چیز میں نے یہ بتائی تھی کہ آئندہ کے لئے یہ قانون بنایا جاتا ہے کہ جولوگ قادیان والے نصف منافع جماعت کو دیں میں کوئی زمین خریدیں اور پھرکسی دوسرے کے پاس اُسے فروخت کریں وہ اخراجات نکالنے کے بعد جو نفع بچے اُس کا نصف خزانہ صدرانجمن احمد یہ میں داخل کریں کیونکہ قادیان کی ترقی خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے ماتحت ہے اور جو لوگ یہاں زمینیں فروخت کر کے نفع کماتے ہیں اُن کے نفع میں خدا تعالیٰ کے سلسلہ کا بھی حق ہے۔کل جب سے میں نے یہ اعلان کیا ہے اس کے بعد ہر سو دے پر نفع کا پچاس فیصدی