خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 14

خطابات شوری جلد سوم ۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء نشان سے اُنہیں پہچان لیا اور کہا یہ میرے بھائی مالک کی لاش ہے۔سے تو اگر واقع میں ہم محبت کی حقیقت کو سمجھیں ، اگر ہم قطعی طور پر اس نتیجہ پر پہنچ جائیں کہ یہ دنیا کفر کی دنیا ہے، یہ ابتلاؤں کی دنیا ہے، یہ آزمائش کی دنیا ہے تو خدا کے لئے موت کو قبول کرنا ہمارے لئے بالکل آسان ہو جاتا ہے اور بڑی سے بڑی قربانی بھی ہماری نگاہوں میں بیچ ہو جاتی ہے۔اُس وقت یہ خیال ایک مومن کے دل میں نہیں آتا اور نہیں آنا چاہئے کہ میری قربانیوں کا کیا نتیجہ نکلا کیونکہ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ہماری قربانیوں کا کوئی نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں۔ہمارے سامنے صرف ایک ہی مقصد ہونا چاہئے کہ ہم نے اسلام کے اعلاء اور خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کی رضا کے حصول کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینا ہے۔دیکھو! اگر ایک کفر کا قلعہ ہو اور مومنوں کی فوج کو یہ حکم دیا گیا ہو کہ جاؤ اور اس قلعہ کی دیوار کو پھاند کر اندر داخل ہو جاؤ۔تو پھر وہ مومن جو اس قلعہ کی دیوار کے ساتھ اپنی جان دے گا وہ اسلام کی فتح کے لئے ایک بنیا د ر کھنے والا قرار پائے گا کیونکہ وہ ایک سیڑھی بن جائے گا جس سے اُس قلعہ کی دیوار تک پہنچنا آسان ہو جائے گا۔اگر ایک مسلمان اُس دیوار کے پاس مرجاتا ہے تو دوسرا مسلمان اُس کے سینہ پر پاؤں رکھ کر قلعہ کی دیوار سے دوفٹ قریب ہو سکتا ہے۔پھر اگر ایک اور مسلمان اس پر گر کر مر جاتا ہے تو مسلمان چارفٹ اور اونچے ہو جائیں گے۔اسی طرح اگر آٹھ دس مسلمان یکے بعد دیگرے مرتے چلے جاتے ہیں تو اُس قلعہ کو فتح کرنا فوج کے لئے بالکل آسان ہو جائے گا کیونکہ وہ ان مرنے والوں کے سینہ پر چڑھ کر قلعہ کی دیوار کو پھاند کر اندر داخل ہوسکیں گے۔پس گو وہ مرنے والے آدمی بظاہر بے وقت مرے ہوں گے مگر انہوں نے اپنی موت سے کفر کے قلعہ کو فتح کرنے کے لئے ایک راستہ تیار کر دیا ہو گا۔پس ہمیں اس بات کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے کہ ہم میں سے بعض وجود وفات پا کر ہم سے الگ ہو گئے ہیں۔اگر ہمارا اصل مقصد اسلام کی فتح اور احمدیت کی کامیابی ہے تو یکے بعد دیگرے ہم میں سے بعض لوگوں کا مرتے چلے جانا ہر گز کوئی ایسی چیز نہیں جس پر ہمیں ایسا غم محسوس ہو جو ہمارے کاموں میں رُکاوٹ کا باعث بن جائے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑا اور کون ہوسکتا ہے مگر دیکھو خدا تعالیٰ کس استغناء سے