خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 13
خطابات شوری جلد سوم ۱۳ مشاورت ۱۹۴۴ء لگ گئے۔اسی دوران میں حضرت انس بن مالک کے چچا وہاں سے گزرے۔انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ فتح کے بعد پھر شکست کی ایک صورت پیدا ہو چکی ہے۔انہوں نے جب حضرت عمرؓ کو سر نیچے ڈال کر روتے ہوئے دیکھا تو حیرت سے کہا عمر ! یہ بھلا کونسا رونے کا مقام ہے۔معلوم ہوتا ہے تمہاری عقل ماری گئی ہے، یہ خوشی کا وقت ہے، یہ اُچھلنے اور گودنے کی گھڑیاں ہیں کہ اسلام کو فتح حاصل ہوئی مگر تم ہو کہ سب سے الگ بیٹھ کر عورتوں کی طرح رو رہے ہو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا مالک ! معلوم ہوتا ہے تمہیں پتہ نہیں کہ کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے کہا پتہ کیوں نہیں اسلام کو فتح حاصل ہوئی ہے اور کفار شکست کھا گئے ہیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا یہ تو پہلا واقعہ ہے تمہیں معلوم نہیں بعد میں کیا ہوا۔اس فتح کے بعد جب مسلمان مالِ غنیمت جمع کرنے میں مشغول تھے تو کفار نے میدان خالی پا کر پہاڑ کے پیچھے سے حملہ کر دیا۔صرف چند آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد تھے اُنہوں نے خوب مقابلہ کیا مگر وہ مارے گئے اور آخر یہ نتیجہ ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ان کے حملہ سے شہید ہو گئے۔جب مالک نے یہ بات سنی تو اُس وقت ان کے ہاتھ میں ایک کھجور تھی۔پانچ دس کھجور میں اُنہیں کہیں سے ملی تھیں اور وہ بھوک کی شدت میں اُن کو کھا رہے تھے۔جب حضرت عمر نے اُن سے یہ بات کہی تو اُس وقت آخری کھجور اُن کے ہاتھ میں تھی۔اُنہوں نے اُس کھجور کو اُٹھایا اور کہا میری جنت اور میرے محبوب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان سوائے اس کھجور کے اور روک ہی کیا ہے۔یہ کہہ کر وہ حضرت عمرؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے۔عمر! اگر یہ بات ہے تو پھر بھی رونے کا کوئی مقام نہیں جہاں ہمارا پیارا گیا ہے وہیں ہمیں بھی جانا چاہئے۔یہ کہہ کر انہوں نے کھجور اپنے ہاتھ سے پھینک دی ، تلوار اُٹھائی اور اکیلے ہی دشمن کے لشکر پر ٹوٹ پڑے اور اس شدت سے لڑائی کی کہ کفار کی صفوں میں تہلکہ مچا دیا مگر آخر ایک آدمی لشکر کا کہاں مقابلہ کر سکتا تھا، دشمن نے اُن کو شہید کر دیا۔جب جنگ کے بعد شہید ہونے والے صحابہ کی نعشیں اکٹھی کی گئیں تو اُن میں مالک کی لاش کا کہیں پتہ نہیں چلتا تھا۔آخر سارے مُردے گئے گئے تو معلوم ہوا کہ ایک لاش ایسی ہے جس کے ستر ٹکڑے ہو چکے ہیں اور وہ پہچانی نہیں جاتی تھی کہ کس کی لاش ہے۔تب مالک کی بہن آگے بڑھیں اور اُنہوں نے ایک انگلی کے