خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 273

خطابات شوری جلد سوم ۲۷۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء کیونکہ صدر انجمن احمدیہ نے کارکنان کے مہنگائی الاؤنس کو بڑھانے کے لئے کوئی تجویز بجٹ میں نہیں رکھی بلکہ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ کارکنان کے گرانی الاؤنس میں اضافہ کی تجویز صدرانجمن احمدیہ کے زیر غور ہے اور اشیاء کی گرانی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ گرانی کے الاؤنس میں اضافہ کرنا صدرانجمن احمد یہ مناسب سمجھتی ہے اگر یہ اضافہ منظور کیا گیا تو خرچ میں تقریباً ۲۷ ہزار کا مزید اضافہ ہوگا مگر فی الحال یہ اضافہ بجٹ میں جو آب پیش کیا جا رہا ہے شامل نہیں کیا گیا گویا یہ معاملہ صدرانجمن احمدیہ کے ابھی زیر غور ہے اور اس نے یہ معاملہ فیصلہ کے لئے پیش نہیں کیا پس کارکنان کے مہنگائی الاؤنس میں اضافہ کا معاملہ اس وقت پیش نہیں ہو سکتا۔۵۔بجٹ میں مبلغین کی تعداد بہت زیادہ دکھائی گئی ہے جس چیز کی میں نے اجازت دی تھی وہ یہ تھی کے سولہ مبلغین پچھلے سال مقرر کئے گئے تھے اور پچاس اس سال یہ کل چھیاسٹھ بنتے ہیں اور میں نے کہا تھا کہ ساٹھ اور رکھ لئے جائیں یہ کل تعداد ایک سو چھیں نتی ہے لیکن موجودہ بجٹ اس سے بہت زیادہ تعداد ظاہر کر رہا ہے بجٹ میں ۷۴۷۶ ( بجٹ اخراجات جدید ) بیلنس دکھائے گئے ہیں اور اس ۷۴ کی تفصیل یوں بیان کی گئی ہے کہ کشمیر کے لئے دو دیہاتی مبلغین زیر تعلیم باسٹھ اور دیہاتی مبلغین عارضی دس اب سوال یہ ہے کہ کشمیر کے لئے جو دو مبلغ رکھے گئے ہیں ان کے رکھنے کی میں نے کب اجازت دی تھی اسی طرح جو دس زائد دیہاتی مبلغین عارضی دکھائے گئے ہیں ان کی منظوری بھی مجھ سے نہیں لی گئی یہ چوبیس کی زیادتی بغیر میری اجازت اور ہدایت کے کی گئی ہے۔“ اس موقع پر حضور کے استفسار پر جناب میرزا بشیر احمد بیگ صاحب نائب ناظر دعوت و تبلیغ نے بتایا کہ اُنہوں نے بجٹ میں یہ گنجائش کیوں رکھی تھی۔سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا :۔احمدیت کی طرف بڑھتا ہوا رجحان ”جہاں تک تبلیغ کا سوال ہے اس کے متعلق میری سکیم بہت وسیع ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس محکمہ میں ہمیں ابھی کئی گنا زیادتی کرنی پڑے گی۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں بھی