خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 271

خطابات شوری جلد سوم ۲۷۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء ناک کٹتی ہے تو ایک دفعہ چھوڑ سو دفعہ کئے۔ہم ایسی باتوں کی پرواہ نہیں کرتے۔میں تو یہاں تک خیال کرتا ہوں کہ اگر کسی وقت نوبت یہاں تک پہنچے کہ ہمیں تعلیمی اداروں کو بند کر کے ان کے اخراجات بھی تبلیغ پر صرف کرنے پڑیں تو ہم اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے اور اُس وقت یہ کوئی معیوب بات نہیں ہوگی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا اصل مقصد اور مدعا تبلیغ ہے ہاں ان موجودہ مخدوش اور پُرفتن ایام کے خیریت کے ساتھ گزر جانے کے بعد ہم ایسے کاموں کی طرف توجہ کر سکتے ہیں پس جب تک ہم ان ہولناک ایام میں سے صحیح سلامت گزرنہیں جاتے ہمیں اپنے پیسے کی قدر کرنی چاہیے اور اپنا ایک ایک پیسہ صرف کرنے سے پیشتر ہمیں سوچنا چاہیے کہ آیا وہ کام جس کے لئے ہم یہ خرچ کرنا چاہتے ہیں اب ایسا ہے کہ اس کے بغیر ہم گزارہ کر سکتے ہیں یا نہیں۔اگر وہ کام ایسا ہے کہ اُس پر خرچ کئے بغیر ہم گزارہ کرسکیں تو خواہ ہمیں اس کے لئے تھوڑی بہت تکلیف بھی کیوں نہ برداشت کرنی پڑے ہمیں اس کے لئے خزانہ سے پیسہ نکالتے وقت تامل ہونا چاہیے۔نازک ایام میں ہمارا فرض پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اخراجات کے بارہ میں اپنا ہر قدم پھونک پھونک کر رکھیں اور جہاں تک ممکن ہوزائد اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کریں۔موجودہ ایام میں اگر ہم نے اس طرف زیادہ توجہ کی کہ سلسلہ کے دفاتر اور تعلیمی اداروں کے لئے زیادہ اعلیٰ عمارتیں ہوں تو ممکن ہے دشمن کے حملہ کی صورت میں ہمیں زیادہ نقصان اُٹھانا پڑے اور وہ نقصان ایسا ہو جس سے ہماری کمریں خم ہو جائیں۔پس دوستوں کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا، گڑ گڑا کر دعائیں کریں اور ساتھ ہی فتنہ انگیزوں کو اُن کی فتنہ انگیزیوں سے باز رکھنے کی کوشش کریں اور اُن کو اس قسم کے فسادات کے بدنتائج سے باخبر کریں اور ان کی ہدایت کے لئے خدا تعالیٰ سے دعائیں کریں ایسے مفسدوں اور فتنہ پردازوں کو نصیحت کرتے رہنا آخر فائدہ مند ثابت ہو گا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَذَكَّرُ إِنْ نَفَعَتِ الذِكْرَى اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بالکل سچ اور صحیح ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ جن لوگوں کو بار بار نصیحت کی جائے وہ راہ راست پر نہ آجائیں خواہ وہ ہندو اور سکھ ہی کیوں نہ ہوں۔نصیحت بہر حال فائدہ پہنچاتی ہے بشرطیکہ صحیح طور پر کی جائے۔