خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 266
خطابات شوری جلد سوم ۲۶۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء ۲۔دوسری ترمیم مولوی ابو العطاء صاحب کی طرف سے پیش ہوئی کہ ہوسٹل جامعہ احمدیہ کے لئے ٹیوٹر حسب تجویز صدر انجمن منظور کیا جائے جس کے لئے ۲۴۰ روپیہ کی رقم بجٹ میں رکھی گئی ہے۔۳۔تیسری ترمیم مولوی عبد الرحیم صاحب درد ایم اے ناظر تعلیم و تربیت کی طرف سے یہ پیش ہوئی کہ مبلغ تمیں ہزار روپیہ جو صدرانجمن احمدیہ نے تعمیر کے لئے رکھا تھا وہ محکمہ تعلیم کی ناگزیر ضروریات کے لئے بجٹ میں منظور کیا جائے۔حضور نے فرمایا:۔جو دوست محمد شریف صاحب کی اس ترمیم کے حق میں ہوں کہ ریویو اردو اور انگریزی کو گرانٹ نہ دی جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ صرف دس دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا:۔فیصلہ اس کے حق میں صرف دس ووٹ ہیں اس لئے ظاہر ہے کہ اس ترمیم کے خلاف اکثریت ہے میں بھی اس ترمیم کے خلاف فیصلہ کرتا ہوں کیونکہ اگر ہم ریویو اردو و انگریزی کی گرانٹ بند کر دیں گے تو اس کے معنی سوائے اس کے اور کیا ہو سکتے ہیں کہ یہ رسالے بند ہو جائیں یہ مثال تو بالکل ویسی ہی ہوگی جیسے ایک بچہ گر پڑے اور وہ روتا چیختا اپنی ماں کے پاس پہنچے تو ماں اُس کو دو تھپڑ رسید کر دے۔بچہ تو پہلے ہی چوٹ لگنے کی وجہ سے رو رہا ہو گا جب ماں بھی اسے دو تھپڑ رسید کر دے گی تو نتیجہ ظاہر ہے کہ وہ اور بھی زیادہ روئے گا یہی حالت اس وقت ریویو کی ہے وہ تو پہلے ہی رور ہے ہیں اگر وہ فریاد لے کر ہمارے پاس مدد کے لئے آئیں تو کیا ہم مدد کرنے کی بجائے اُن کو تھپڑ مار دیں؟ پس ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی گرانٹ کو ابھی بند نہ کریں تا کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔دوسری تجویز یہ ہے کہ ہوٹل جامعہ احمدیہ کے لئے صدرانجمن احمدیہ کی تجویز کے مطابق ایک ٹیوٹر منظور کیا جائے جس کے لئے بجٹ میں ۲۴۰ روپے کی رقم رکھی گئی ہے بشرطیکہ طلباء کی تعداد کم از کم پچاس ہو۔جو دوست اس کی تائید میں ہوں کہ پچاس طلباء کی صورت میں ٹیوٹر رکھ لیا جانا چاہیے وہ کھڑے ہو جائیں۔“