خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 265

خطابات شوری جلد سوم ۲۶۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء رکھا جائے اس لئے میں کثرت رائے کے حق میں فیصلہ دیتا ہوں کہ شرح چندہ میں کوئی اضافہ نہ کیا جائے۔“ نیز فرمایا:۔”میاں عبدالمنان صاحب عمر نے کہا ہے کہ انگریزی ترجمۃ القرآن جس کی ایک جلد انشاء اللہ اسی سال شائع ہو جائے گی اس کی آمد بجٹ میں شامل کی جائے۔اس میں طبہ نہیں کہ بجٹ میں یہ آمد صحیح طور پر درج نہیں مگر اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اگر یہ آمد درج ہوئی تو ہماری آمد کا بجٹ بڑھ جائے گا۔اس وقت تک اس مد میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب خرچ ہو چکا ہے اور یہ سب خرچ قرض لے کر کیا گیا ہے اس لئے کچھ عرصہ تک اس روپیہ سے قرض ادا ہوگا اور پھر جو ر تم بیچ رہی وہ اگلے حصہ کی طباعت پر خرچ ہوگی مطبوعہ بجٹ میں صرف ۱۳۲۶۶ آمد دکھائی گئی ہے حالانکہ چالیس ہزار دکھائی جانی چاہیے تھی کیونکہ انگریزی ترجمۃ القرآن کی دو ہزار جلدیں شائع ہوں گی اور فی جلد میں روپیہ قیمت رکھی جائے گی بعض دوست چاہتے ہیں کہ اس کی قیمت پچیس روپے رکھی جائے لیکن یہ فیصلہ تو بعد میں ہوگا میری خواہش یہی ہے کہ اس کی قیمت ہیں روپیہ ہوتا کہ اس کی اشاعت زیادہ ہو سکے اگر ہمیں روپیہ اس کی قیمت رکھی جائے تو یہ آمد چالیس ہزار روپے ہو سکتی ہے اور بجٹ میں صرف ۱۳۲۶۶ روپے درج کی گئی ہے یہ صرف ایک حسابی غلطی ہے بیت المال والوں کو چاہیے کہ وہ اسے درست کر دیں اور چالیس ہزار آمد اور اتنا ہی خرچ رکھ لیا جائے“۔اس کے بعد حضور نے ارشا د فرمایا کہ بجٹ اخراجات کے متعلق اگر کوئی دوست اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیں تو نام لکھوا دیں مگر کسی دوست نے اپنا نام نہ لکھوا یا صرف ملک عبد الرحمن صاحب خادم نے حفاظت مرکز کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ اب جو دوست اخراجات کے بارہ میں کوئی ترمیم پیش کرنا چاہتے ہوں وہ پیش کر دیں۔حضور کے اس ارشاد پر پہلی ترمیم محمد شریف صاحب کانپور کی طرف سے یہ پیش ہوئی کہ ریویو اردو اور انگریزی کو گرانٹ نہ دی جائے بلکہ اس صیغہ کو چاہیے کہ خود اپنے اخراجات برداشت کرے۔