خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 264

۲۶۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء خطابات شوری جلد سوم ۹ را حصہ کی وصیت کرنے کا قانون بنا دیں۔مثلاً یہ تو ہم لوگوں سے کہہ سکتے ہیں کہ ہر روز پچاس یا سونفل پڑھا کرو لیکن ہم فرض نمازوں کی چار رکعت بڑھا کر ساڑھے چار نہیں کر سکتے پس میں کثرت رائے کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے اس تجویز کو کہ ہر شخص ضرور ۱٫۹ کی وصیت کرے ر ڈ کرتا ہوں۔اب میں دوستوں کے سامنے دوسری تجویز رکھتا ہوں میاں عطاء اللہ صاحب پلیڈر کی تجویز یہ ہے کہ ۲۵۰ روپے تک شرح چندہ بدستور رہے لیکن ۲۵۰ روپیہ سے اوپر آمدنی والوں کیلئے شرح چندہ بڑھا کر چھ پیسے فی روپیہ کر دی جائے۔جو دوست اس تجویز کے حق میں ہوں کہ ۲۵۰ روپیہ تک ماہوار آمدنی والوں کے لئے شرح چندہ نہ بڑھائی جائے یعنی ان کو قانونا مجبور نہ کیا جائے کہ وہ ضرور ایک آنہ کی بجائے چھ پیسے ہی دیں۔وہ کھڑے ہو جا ئیں۔“ اس پر ۳۱۷ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا :۔۳۱۷ دوستوں یعنی اکثریت کی رائے یہی ہے کہ ۲۵۰ روپیہ تک شرح چندہ نہ بڑھائی جائے میں اسی کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔دوسری تجویز میاں عطاء اللہ صاحب کی یہ ہے کہ ۲۵۰ روپیہ سے اوپر ۵۰۰ روپیہ تک ماہوار آمدنی والوں کے لئے شرح چندہ چھ پیسے کر دی جائے ۲۵۰ روپے سے اوپر آمدنی والوں کے لئے شرح چندہ بڑھانے کی دو شقیں ہیں ایک تو یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے ایک آنہ کی بجائے چھ پیسے کی شرح سے چندہ دے اور دوسرے یہ قانون بنا دیا جائے کہ ایسے لوگوں سے ضرور چھ پیسے کے حساب سے چندہ وصول کیا جائے جو دوست اس تجویز کے حق میں ہوں کہ ۲۵۰ روپے سے زیادہ ماہوار آمدن والوں کے لئے شرح چندہ بڑھا دی جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس تجویز کے حق میں کوئی دوست کھڑے نہ ہوئے۔حضور نے فرمایا:۔66 جو دوست اس تجویز کے خلاف ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۳۵۸ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا:۔۳۵۸ دوستوں کی رائے یہ ہے کہ شرح چندہ میں کوئی اضافہ نہ کیا جائے بلکہ اس کو طوعی