خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 247

خطابات شوری جلد سوم ۲۴۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء دور کرنا چاہیے۔ذرا غور تو کرو یہ کتنا بھیا نک نظارہ ہوسکتا ہے کہ کسی دن مبلغین اس وجہ سے سٹرائیک کر دیں کہ اُن کے گریڈ بڑھائے جائیں۔میں تو اس کے تصور سے ہی کانپ جاتا ہوں پس اس قسم کے مقدس کام کے لئے گریڈوں کا سوال قطعاً نہیں ہونا چاہیے۔کثرت ازدواج کی اہمیت شادی بیاہ کے متعلق ایک تجویز نظارت امور عامہ کی طرف سے پیش کی گئی تھی جسے رڈ کر دیا گیا ہے مگر میرے نزدیک یہ تجویز قابل توجہ ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں یہ مرض ترقی کرتا جارہا ہے۔ایک طرف تو ہم زور دیتے ہیں کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی اسلام نے اجازت دی ہے اور بعض اوقات ایک سے زائد شادیاں تقویٰ کے قیام کے لئے ضروری ہوتی ہیں لیکن اب یہ صورت ہے کہ ایک شخص کی بیوی فوت ہو جاتی ہے اور اُس کے تقویٰ کے لئے بھی اور جماعتی ترقی کے لئے بھی اُس کا دوسری شادی کرنا لازمی ہوتا ہے لیکن جب رشتہ کی تحریک کی جاتی ہے تو جواب آتا ہے کہ اس کے بچے ہیں۔بتاؤ اب وہ بچوں کو کہاں پھینک دے۔آخر بچے تو اُس کے پاس ہی رہیں گے اور کہاں جائیں گے۔مجھے حیرت آتی ہے کہ باوجود عقل مند اور سمجھ دار ہونے کے لوگ یہی عذر پیش کرتے چلے جاتے ہیں۔میں ایسے لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر اُن کی یہی حالت ہو جائے تو وہ کیا کریں گے؟ اگر جماعت میں یہ احساس زیادہ دیر تک اسی طرح قائم رہا تو جماعت کے لئے یہ احساس بہت مصر ثابت ہوگا۔اسی طرح بعض لوگوں کو بوجہ پہلی بیوی کے بیمار ہو جانے کے دوسری بیوی کی ضرورت ہوتی ہے اور مرد اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اولاد پیدا کر سکے لیکن ایسے آدمی کے لئے رشتہ کی بہت مشکلات پیش آتی ہیں۔ہر طرف سے یہی جواب آتا ہے کہ اس کی پہلی بیوی موجود ہے حالانکہ یہ تو حقیقی ضرورت ہے۔بعض اوقات قوموں کو اقلیت سے اکثریت میں تبدیل کرنے کے لئے بھی کثرت ازدواج پر زور دینا پڑتا ہے۔ہندوستان کے مسلمانوں کو آج یہ مصیبت لاحق نہ ہوتی اگر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان پر عمل کرتے کہ تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ الْوَدُودَ بچے پیدا کرنے والی اور محبت کرنے والی عورتوں سے شادی کرو۔اگر مسلمان اس پر عمل کرتے تو آج ہندوستان میں ان کی اکثریت ہوتی۔اگر ہماری جماعت ہی اس پر عمل کرتی تو آج ہندوستان میں ان کی اکثریت ہوتی۔میں نے بہار والوں کو علاوہ اور