خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 228
خطابات شوری جلد سو ۲۲۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء دل میں گدگدیاں سی ہونے لگتی ہیں اور وہ اپنے آپ کو ایک نئے عالم میں محسوس کرتا ہے۔جب وہ ایک مُردہ حالت سے نکل کر زندگی کے میدان میں اپنا قدم رکھتا ہے جب وہ ایک ذہنی موت سے چھٹکارا پاتے ہوئے روحانی حیات کا مزہ چکھتا ہے جب اُس کا قلب نمایاں طور پر محسوس کرتا ہے کہ مجھے خدا نے ہلاکت سے نکال کر نجات کی طرف لے جانے کا فیصلہ کیا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ خدا نے مجھے اُس دنیا کو نجات دینے والے لوگوں میں ایک ناجی کی صورت میں کھڑا کر دیا ہے تو خواہ وہ کتنا ہی کمزور ہو، کتنا ہی جاہل ہو، کتنا ہی اُمنگوں سے عاری ہو کچھ نہ کچھ گد گدیاں اُس کے دل میں ضرور پیدا ہوتی ہیں۔کچھ نہ کچھ اُمنگیں اُس کے قلب میں ضرور موجزن ہوتی ہیں اور اُس کی آنکھیں ڈور فضا میں اپنی چہت کے مطابق ایک نصب العین دیکھتی ہیں اور وہ خوش ہو کر کہتا ہے آج میں بھی ایک جماعت میں داخل ہو گیا ہوں۔آج میں بھی اپنے ایثار اور اپنی قربانی اور اپنی جدوجہد سے ایسے نیک تغیرات پیدا کروں گا جو ہمیشہ ہمیش کے لئے میرے لئے بقائے دوام کا باعث بنیں گے۔ایک شخص بھی ایسا نہیں ہوتا جو ایسے جذبات لئے بغیر جماعت احمدیہ میں داخل ہو۔کیونکہ جماعت احمدیہ میں ہر شخص یہ سوچ کر اور سمجھ کر داخل ہوتا ہے کہ میں خدا کے لئے اپنے نفس پر ایک موت وارد کروں گا۔میں اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے محض خدا کی رضا کے حصول کے لئے جدائی اختیار کروں گا۔یہ اُس کی زندگی کا ایک عظیم الشان واقعہ ہوتا ہے جو اُس کے نفس کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے اور اُس کے قلب پر ایک لرزہ طاری کر دیتا ہے جس طرح ایک درخت کو باغ میں سے نکال کر کہیں اور لگایا جائے تو اُسے ایک دھگا محسوس ہوتا ہے اسی طرح جب کوئی شخص ایک سلسلہ سے کٹ کر دوسرے سلسلہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ بھی ایک نہایت ہی تزلزل پیدا کرنے والا واقعہ ہوتا ہے اور اُس وقت اُس کے خیالات اپنے سابق خیالات کی نسبت بہت کچھ بلند پروازی کر رہے ہوتے ہیں۔اپنی حالت کے مطابق۔اپنی حیثیت کے مطابق۔مگر بہر حال کچھ نہ کچھ ضرور ہر شخص جو سلسلہ میں داخل ہوتا ہے ہر شخص جو بیعت کے لئے اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے وہ پہلے سے اونچا بہت اونچا اور بہت ہی اونچا اُڑنا شروع کر دیتا ہے اور اُس کی بلند پروازی اُس کی اپنی نگاہوں میں بھی عجیب ہوتی ہے۔