خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 220

خطابات شوری جلد سوم ورت ۱۹۴۶ء پس اُس دن کے آنے سے پہلے ہمیں اس کے لئے تیاری کرنی چاہئے اور تیاری کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں مرکز کے قریب سمٹتے چلے آنا چاہئے۔جب بادل گرجتے ہیں، جب بجلیاں کوندتی ہیں، جب آسمان سے بڑے زور سے بارش برستی ہے تو بچے اپنی ماں کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں۔جب شور کی آواز پیدا ہوتی ہے، جب چور چکار کی آواز میں لوگوں میں بلند ہونی شروع ہوتی ہیں، جب ڈا کہ کے متعلق مختلف قسم کی افواہیں لوگوں میں پھیلنے لگتی ہیں تو بچے اپنے باپ کے پاس جمع ہو جاتے ہیں۔جب کسی گاؤں والوں کو کوئی خطرہ درپیش ہوتا ہے تو وہ دارہ میں نمبر دار یا سردار کے پاس جمع ہو جاتے ہیں تا کہ وہ اپنے اشتراک سے آنے والی بلا کو دور کر سکیں۔جب قوموں پر بلائیں آتی ہیں تو ان کی نگاہیں حکومت اور فوج کی طرف اُٹھنے لگتی ہیں۔ہمارے ملک میں بھی چونکہ فتنہ و فساد اور جنگ و جدل کا زمانہ قریب سے قریب تر آ رہا ہے۔اس لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ ہماری جماعت زیادہ سے زیادہ تعداد میں مرکز کے قریب جمع ہو اور اُس روح کو اپنے اندر پیدا کرے جو روح کامیابی اور فتح کے قریب کرتی اور ناکامی کے خطرہ کو دور کر دیتی ہے۔ان نصائح کے بعد میں جماعت کو رخصت کرتا ہوں۔رات کو میری طبیعت سخت خراب رہی ہے اور اب بھی سر درد کی دوائی کھا کر میں تقریر کرنے کے قابل ہو ا ہوں۔اب میں دعا کر دوں گا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فرائض کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ برکتیں جو ہمیں معلوم ہیں یا معلوم نہیں اپنے فضل سے عطا کرے اور وہ بلائیں اور مصائب جو نظر آ رہی ہیں اور اسی طرح وہ بلائیں اور آفات جو نظر نہیں آرہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو دور کرے اور ہمیں صحیح طور پر قربانیوں کی توفیق عطا فرمائے تا اگر اُس کی طرف سے کوئی خیر نہ پہنچے تو اس خیر کا نہ پہنچنا ہماری کو تا ہی عمل کی وجہ سے نہ ہو۔اور یہ قیاس بھی نہیں کیا جا سکتا کہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ کا ایک کمزور ترین بندہ اُسے یہ کہہ سکے کہ اے خدا! میرے پاس جو کچھ تھا وہ تو میں نے تجھے دے دیا تھا مگر چونکہ تیری طرف سے رحمت کا نزول نہ رہا اس لئے میں ہار گیا۔یقیناً خدا تعالیٰ اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔اگر اس کے کمزور بندے اپنا سب کچھ دین کی خدمت کے لئے دے دیں گے تو خدا بھی اپنی ساری مخلوق ان کی خدمت کے لئے لگا دے گا۔