خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 203

خطابات شوری جلد سوم ت ۱۹۴۶ء اس کی طرف توجہ نہیں کرتا تو وہ دُنیا کا ادنیٰ ترین انسان ہے، وہ جاہل سے جاہل انسان سے بھی بدتر ہے کیونکہ اس نے ایک ایسا قیمتی موقع کھو دیا جس کے لئے پاگل بھی تیار نہیں ہوسکتا۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ آنے والے خطرات کے مقابلہ کے لئے قربانی اور ایثار کی روح اپنے اندر پیدا کرے۔بے شک جب ہم جماعت کے افراد سے قربانی کا مطالبہ کرتے ہیں تو محدود مطالبہ کرتے ہیں مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ تم سے ہمیشہ اسی قسم کے مطالبات کا سلسلہ جاری رہے گا۔میں نے بار بار کہا ہے اور مجھے بار بار کہنے کی ضرورت ہے کہ جب ایک چیز متواتر کسی انسان کے سامنے آتی ہے تو وہ اُس کی اہمیت سے غافل ہو جاتا ہے۔ہمارے ملک میں قصہ مشہور ہے کہ ایک بچہ نے جو جنگل میں بکریاں چرا رہا تھا ایک دفعہ مذاق کے طور پر شور مچا دیا کہ شیر آیا شیر آیا دوڑنا !! یہ آواز سُن کر گاؤں کے لوگ لاٹھیاں اپنے ہاتھ میں لے کر دوڑ پڑے مگر جب وہاں پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ لڑکے نے اُن سے مذاق کیا تھا، شیر کوئی نہیں تھا وہ لڑکے کو بُرا بھلا کہتے ہوئے واپس چلے گئے مگر چند دنوں کے بعد واقعہ میں شیر آ گیا اور اُس نے اپنی مدد کے لئے گاؤں والوں کو آواز دی تو کوئی شخص بھی اُس کی آواز پر نہ پہنچا اور شیر اُس لڑکے کو پھاڑ کر کھا گیا۔یہ مثال اس غرض کے لئے بیان کی جاتی ہے کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہئے کیونکہ جھوٹے آدمی کا اعتبار اُٹھ جاتا ہے۔اس نے پہلی دفعہ جھوٹ بولا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری دفعہ جب وہ واقعہ میں سچ بول رہا تھا لوگوں نے یہی سمجھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ واقعہ میں سچ بولا جا رہا ہوتا ہے مگر اس سچ کا مقصد لوگوں کا امتحان لینا ہوتا ہے۔جب بھی کوئی بڑا امتحان آنے والا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اُس کے متعلق لوگوں کو شروع سے خبر دینی شروع کر دیتا ہے گو اُس کا کامل ظہور ایک لمبے عرصہ کے بعد ہوتا ہے۔درمیانی حصے جب ظاہر ہونے شروع ہوتے ہیں اور قدم بقدم دُنیا میں تغیر پیدا ہونے لگتا ہے تو بعض لوگوں کے دلوں میں ان درمیانی حصوں کو دیکھ کر یہ احساس پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ قربانی کا وہ عظیم الشان تصور جو ہمارے ذہنوں میں پیدا کیا گیا تھا وہ یہی ہے، تب اُن کا دل مطمئن ہو جاتا ہے اور وہ آنے والی قربانی کے لئے تیار نہیں ہو سکتے۔