خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 202
خطابات شوری جلد سوم رت ۱۹۴۶ء خطرناک زمانہ میں جماعت کی ذمہ داری دوسری بات جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ اب دُنیا کے لئے ایک خطرناک زمانہ آ رہا ہے۔ایک پیشگوئی کے بعد دوسری پیشگوئی پوری ہو رہی ہے اور آخری اور خطرناک صورتیں اب دُنیا میں ظاہر ہونے والی ہیں۔ان خطرناک اوقات میں اگر کوئی جماعت لوگوں کے لئے مفید کام کر سکتی ہے تو وہ جماعت احمد یہ ہی ہے۔دوسری جماعتیں مذہب اور دیانت سے بہت دُور جا پڑی ہیں اُن کی اغراض محض ذاتی اور نفسانی ہیں۔صرف ایک ہماری جماعت ہی ہے جس کا ایثار محض خدا کے لئے ہوتا ہے اور جس کے سامنے کوئی ذاتی مقصد نہیں جس کے لئے وہ دُنیا میں نیک تغیر پیدا کرنا چاہتی ہے بلکہ اس کا مقصد محض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی حکومت دُنیا میں قائم ہو اور اُس کا جلال لوگوں پر ظاہر ہو ایسے وقت میں اگر ہم اپنے فرائض سے کوتا ہی کریں گے تو یہ امر دُنیا کی تباہی کا موجب ہوگا اور اگر ہم اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا کریں گے تو دُنیا کی آئندہ اصلاح کے ہم بانی ہوں گے اور جو عظیم الشان تغیر پیدا ہو گا اُس کے ثواب کے حقدار ہوں گے۔اس وقت ہم ایک ایسے نازک مقام پر ہیں کہ ذراسی سستی اور غفلت کے ذریعہ ہم خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والوں میں بھی شامل ہو سکتے ہیں اور اپنے فرائض ادا کر کے ہم خدا تعالیٰ کی بہترین مخلوق بھی بن سکتے ہیں۔ہم سے بہتر موقع شاید ہی آج تک کسی قوم کو ملا ہو۔یہ وہ زمانہ ہے جس کے فتنوں کی تمام انبیاء نے خبر دی ہے۔ایسے زمانہ میں کام کرنے والی قوم دُنیا میں معمولی قوم نہیں سمجھی جاسکتی بلکہ وہ ایک ایسی تاریخی یادگار کی حامل ہو گی کہ صرف دُنیا کی زندگی تک اُس کی شہرت قائم نہیں رہے گی بلکہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ بھی اس یاد گار کو بے تو جہی سے نہیں دیکھے گا اور اس زمانہ میں کام کرنے والوں کو ایسا مقام دے گا کہ دُنیا حسد اور رشک کی نگاہوں سے اُسے دیکھے گی۔پس یہ ایسا موقع نہیں جسے کوئی سمجھدار شخص گنوانے کے لئے تیار ہو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دُنیا میں کمانے والے بھی ہوتے ہیں۔پیشہ ور اور صاحب فنون بھی ہوتے ہیں اور اسلام ان کاموں میں حصہ لینے سے روکتا نہیں مگر ایسے موقع پر اگر کوئی شخص اپنی ساری توجہ ان مقاصد کے لئے ہی صرف کر دیتا ہے اور جس غرض کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا گیا تھا