خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 152
خطابات شوری جلد سوم ۱۵۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء میرا وہ فیصلہ لفظاً لفظاً اب بھی قائم ہے اور اُس کی تعمیل کرنا ناظر پر فرض ہے اگر وہ میرے فیصلہ کی تعمیل کرتے تو درست ہوتا۔ورنہ خواہ وہ مریخ اور زہرا کے ٹکڑے لے آئیں اور خزانے میں داخل کر دیں مگر حکم کی تعمیل نہ کریں تو وہ نا فرمان سمجھے جائیں گے۔کہا گیا ہے کہ اُن جماعتوں کے نام شائع کئے گئے جنہوں نے فارم بھیجے مگر پھر بھی تعمیل نہ کی گئی۔اس کا جواب وہ یہ دے سکتے ہیں کہ تم نے خلیفہ کا حکم نہ مانا ، ہم پر تمہارے حکم کا کیا اثر ہوسکتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک ناظر اپنے رویہ کو نہ بدلیں گے، ان کی باتوں کا بھی کوئی اثر نہ ہوگا۔ایک دفعہ کسی بزرگ کا گھوڑا چلنے سے اڑا۔انہوں نے فرمایا میں نے ضرور خدا تعالیٰ کے کسی حکم کی نافرمانی کی ہوگی جس پر گھوڑے نے میری نافرمانی کی۔جانے دو نیکی اور ایمان کو مگر کیا یہ درست نہیں کہ جو ماں باپ بچوں کے سامنے لڑتے ہیں، بچے اُن سے لڑتے رہتے ہیں؟ خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ بدلتا ہے۔جو لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ فلاں نے قانون شکنی کی اور اُسے بُرا نہیں سمجھا گیا تو وہ بھی اس طریق کو اختیار کر کے نظام کو درہم برہم کر دیتے ہیں۔اس وجہ سے قانون شکنی کی روح کو ہی چل دینا چاہئے۔قانون شکنی خواہ ناظر کرے یا کوئی اور وہ برداشت نہیں کی جاسکتی۔جب ناظر خلیفہ کے کسی فیصلہ کی خلاف ورزی کرتا ہے تو کیا کلرک نہیں دیکھتے کہ یہ فیصلہ لکھا ہے مگر ناظر اس پر عمل نہیں کرتے۔پھر اسی طرح کلرک ناظر کے حکم کے متعلق کرتے ہیں اور وہی بات ہو جاتی ہے جو کسی برہمن کے متعلق بیان کی جاتی ہے۔کہا جاتا ہے ایک برہمن دریا کی طرف سے آ رہا تھا۔سردی کا موسم تھا اور غسل کرنا مشکل تھا۔ایک دوسرے برہمن نے پوچھا غسل کر آئے ؟ اُس نے کہا میں نے تو دریا میں ایک کنکر پھینک کر کہہ دیا ” تو را شنان سوموراشنان۔پوچھنے والے نے کہا پھر میں تم کو مخاطب کر کے کہہ دیتا ہوں کہ ” تو را شنان سوموراشنان“ اور یہ کہہ کر وہ بھی گھر لوٹ گیا۔اسی طرح ایک کلرک جب دیکھتا ہے کہ خلیفہ کا ایک حکم لکھا ہوا موجود ہے مگر بجائے اس کے متعلق فیصلہ کرانے کے خود ہی ناظر کہہ دیتا ہے کہ اس پر عمل نہیں ہوسکتا تو وہ ناظر کے حکم پر کہتا ہے کہ اس پر عمل نہیں ہوسکتا۔پھر جب وہ کوئی حکم دیتا ہے تو چپڑ اسی کہ دیتا ہے کہ اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔اس طرح تو جیہ کا دروازہ وسیع ہوتا جاتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ سب سے اول قیاس ابلیس نے کیا اور وہ تباہ ہو گیا۔پس یا تو