خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 135

خطابات شوری جلد سوم ۱۳۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی عمارت کا کام پچھلی مئی سے شروع ہے مگر ابھی تک اس کے لئے گارڈ نہیں ملے پس اس وقت عمارت کا کوئی سوال نہیں بلکہ سوال صرف زمین خرید نے کا ہے۔ممکن ہے اس سال اللہ تعالیٰ حالات سازگار کر دے تو عمارت کے لئے بھی کوشش شروع کی جا سکے مگر اس وقت صرف زمین خریدنے کا سوال ہے تاکہ لڑکیوں کے بورڈنگ کی بنیاد قائم ہو جائے۔سوئیں اپنے حکم اور اختیار خاص سے نصرت گرلز سکول کے ہوٹل کے لئے اس سال کے بجٹ میں پانچ ہزار روپیہ رکھتا ہوں۔صدر انجمن احمدیہ کو چاہئے کہ وہ اس روپیہ کو بجٹ میں شامل کر لے تا کہ اس روپیہ سے زمین خریدنے کی کوشش کی جاسکے۔اگر دورانِ سال میں عمارت کے سامان ملنے شروع ہو گئے تو میں اپنے اختیار خاص سے جتنی رقم کی ضرورت ہوگی اتنی رقم کی بورڈنگ کی عمارت کے لئے منظوری دے دوں گا۔ابھی چونکہ عمارتی سامانوں کے ملنے کا امکان بہت کم ہے اس لئے میں صرف زمین کے لئے پانچ ہزار روپیہ کی منظوری دیتا ہوں۔“ بجٹ پر بحث کے دوران میں نظارت دعوۃ و تبلیغ حسابات کا ہر روز معائنہ ہونا چاہئے کی یہ تجویز زیر غور آئی کہ محر ر حسابات کے لئے چوراسی روپے سالانہ ڈیوٹی الاؤنس منظور کیا جائے۔اس بارہ میں کچھ احباب نے اپنی آراء پیش کیں۔اس کے بعد حضور نے فرمایا:- ”میرے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال رہا ہے اور میں نے کئی نقطہ نگاہ سے اس پر غور کیا ہے میری رائے ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ یہ نقص جو پیدا ہوتا ہے یہ لازمی ہے یا غیر لازمی ، اور آیا اس نقص کو تسلیم کرنے کی وجہ سے ہم آئندہ کے لئے بددیانتی کا راستہ تو نہیں کھول دیتے ؟ جب ہم کہتے ہیں کہ یہ ڈیوٹی الاؤنس ہے اور یہ ڈیوٹی الاؤنس اس لئے ہے کہ کام کرنے والے سے غلطیاں ہو جاتی ہیں جن کی اس ذریعہ سے تلافی کی جاتی ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ غلطیاں ہونی ضروری ہیں اور جب کسی کے اندر یہ ذہنیت پیدا کر دی جائے تو اُس کی دیانت کا معیار گر جاتا ہے۔مجھے یاد ہے ہم بچے تھے کہ ہم نے تفخیذ الا ذہان‘ نام سے ایک انجمن قائم کی۔ایک دوست جو ہماری اس انجمن کے ممبر تھے بہت بڑی قربانی کر کے اور باہر کی ملازمت کو ترک