خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 115

خطابات شوری جلد سوم ۱۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء بھی نکلوائے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے جس بجٹ کو دو لاکھ کا قرار دے رہے ہیں وہ در حقیقت ۷۳ ہزار کا بجٹ تھا۔چنانچہ ۱۹۱۲ - ۱۹۱۳ء میں ۱۰۰۳۶۴ روپیہ کا بجٹ تھا۔۱۹۱۳ء۔۱۹۱۲ء میں ۱۱۹۶۳۷ روپیہ کا بجٹ تھا اور ۱۹۱۴ء۔۱۹۱۳ء میں ۷۳۰۶۷ روپیہ کا بجٹ تھا۔در حقیقت ۱۹۱۲ء۔۱۹۱۱ء، ۱۹۱۳ء۔۱۹۱۲ء اور ۱۹۱۴ء۔۱۹۱۳ء میں جو زیادتی تھی اُس کی وجہ یہ تھی کہ بورڈنگ اور مدرسہ کی تعمیر ہو رہی تھی۔اور گورنمنٹ کی طرف سے اس غرض کے لئے امداد مل رہی تھی۔چنانچہ ۱۹۱۲ء۔۱۹۱۱ء میں تعمیر کا ۳۴۵۱۲ روپیہ آیا۔۱۹۱۳ء۔۱۹۱۲ء میں تعمیر کا ۵۳۶۰۵ روپیہ آیا۔اور ۱۹۱۴ ء۔۱۹۱۳ء میں ۹۵۳۳ روپیہ آیا۔اس سرکاری گرانٹ کو اگر نکال دیا جائے تو در حقیقت ۱۹۱۲ء۔۱۹۱۱ء میں ۶۵۸۵۲ روپیہ کی آمد ہوئی۔۱۹۱۳ء۔۱۹۱۲ء میں ۶۶۰۳۲ روپیہ کی آمد ہوئی اور ۱۹۱۴ء۔۱۹۱۳ء میں ۶۳۵۳۴ روپیہ کی آمد ہوئی۔غیر مبائعین دعوی کرتے ہیں کہ پہلے سال اُن کا سات ہزار چندہ تھا۔گویا اگر وہ ہمارے اندر شامل ہوتے تو ۱۹۱۴ء۔۱۹۱۳ء میں ہمارا بجٹ ستّر ہزار روپیہ کا ہوتا مگر چونکہ وہ نکل گئے اس لئے ہمارا بجٹ ۶۳ ہزار روپیہ پر آ گیا۔پس اُن کی یہ بات قطعاً غلط ہے کہ ۱۹۱۴ - ۱۹۱۳ء میں ہماری آمد دو لاکھ تھی۔ہماری آمد اُس وقت ۶۳ ہزار روپیہ تھی لیکن اس سال ہمارا بجٹ ۹۲۱۳۹۰ روپیہ کا ہے۔اس میں سے ۱۲۶۹۷۰ روپیہ جو مشروط به آمد ہے اُس کو اگر نکال دیا جائے تو ۷۹۴۴۲۰ روپیہ رہ جاتا ہے۔تریسٹھ ہزار کے مقابل میں سات لاکھ ۹۴ ہزار کے معنے یہ ہیں کہ ہمارا بجٹ خدا کے فضل سے بارہ گنا بڑھ گیا ہے بلکہ حقیقتاً ہماری آمد اس سے بھی زیادہ ہے کیونکہ اس سال پانچ لاکھ اور چندہ اکٹھا ہوا ہے جو اس میں شامل نہیں۔تین لاکھ چالیس ہزار تحریک جدید کا چندہ اکٹھا ہوا اور ڈیڑھ لاکھ کالج کا چندہ جمع ہوا۔چار لاکھ نوے ہزار تو یہی ہو گیا۔پچیس ہزار مسجد مبارک کے لئے اکٹھا ہوا تھا اس کو شامل کر لیا جائے تو تیرہ لاکھ روپیہ بن جاتا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارا بجٹ ۱۹۱۴ء۔۱۹۱۳ء سے ہیں گنا یا اکیس گنا بڑھ گیا ہے۔اس کے مقابلہ میں غیر مبائعین جو اپنی آمد بتاتے ہیں وہ محض خیالی ہوتی ہے۔مثلاً انہوں نے اپنے پہلے سال کی آمدسات ہزار روپیہ بتائی ہے۔حالانکہ شیخ رحمت اللہ صاحب تین سو روپیہ ماہوار چندہ دیا کرتے تھے۔صرف اُن کا چندہ ہی ۳۶۰۰ سو بن جاتا ہے۔پھر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب،