خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 114
خطابات شوری جلد سوم ۱۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی آمد کو بڑھانے کے لئے بعض اور وسائل اختیار کریں۔اسی حکمت کے ماتحت میں نے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو قائم کیا ہے تا کہ وہ تجارت اور صنعت و حرفت کے میدان میں جماعت کی ترقی کے لئے نئے راستے کھول سکے۔اور پھر اسی حکمت کے ماتحت میں نے ریز روفنڈ قائم کرنے اور جائیدادیں خریدنے کی سکیم تیار کی۔یہ تمام تدابیر ایسی ہیں جو چندوں کے علاوہ ہیں۔بیشک ایک دفعہ جماعت پر بوجھ ڈال کر زیادہ چندہ لے لیا جائے گا لیکن اگر ان تدابیر میں ہمیں کامیابی ہو گئی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے معقول آمد پیدا ہوتی رہے گی۔حکومتوں کو دیکھ لو وہ بھی بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی تدبیروں اور بعض چیزوں کی مونا پلی یعنی اُن کی گلی اجارہ داری سے لاکھوں روپیہ کما لیتی ہیں۔مثلاً تیل کی مونا پلی ہے یا موٹروں کی ہے یا ریلوں کی ہے۔ان چیزوں سے گورنمنٹ لاکھوں ہی نہیں کروڑوں اور اربوں روپیہ کماتی ہے۔اس ملک میں ریلوے گورنمنٹ کے قبضہ میں ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ گورنمنٹ کو جتنی آمد ٹیکسوں کے ذریعہ ہوتی ہے یا بعض دوسرے ذرائع سے ہوتی ہے اُتنی ہی آمد اُسے اس ذریعہ سے ہو جاتی ہے۔ایک ارب روپیہ اگر اُسے ٹیکسوں وغیرہ کے ذریعہ حاصل ہوتا تھا تو ایک ارب روپیہ ریلوے کے ذریعہ اُسے حاصل ہونے لگ گیا ہے۔غرض جس طرح حکومتیں اور قو میں مختلف تجارتوں اور صنعتوں پر غور کر کے اپنی آمد کو بڑھانے کی تدابیر اختیار کرتی ہیں ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اُن تدابیر پر غور کریں جن سے سلسلہ کی آمد میں اضافہ ہو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا بجٹ خدا کے فضل سے کئی گنا بڑھ گیا ہے اور جماعت نے مالی لحاظ سے غیر معمولی ترقی کی ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہمیں اپنی آمد میں ابھی اور زیادہ ترقی کی ضرورت ہے۔جلسہ سالانہ پر میں نے بتایا تھا کہ مولوی محمد علی صاحب نے ہمارا اور اپنا مقابلہ کرتے ہوئے یہ اعتراض کیا ہے کہ اُن کی آمدنی سال اوّل میں صرف سات ہزار تھی جو ترقی کر کے سوا چار لاکھ تک جا پہنچی ہے، جو سال اوّل سے ساٹھ گنا ہے اور ہماری جماعت دو لاکھ آمدنی سے ترقی کر کے صرف چھ لاکھ سالانہ آمد تک پہنچی ہے جو ابتدائی حالت سے لگنی ہے۔کجا ساٹھ گنا ترقی اور گجا تین گنا ترقی۔میں نے بتایا تھا کہ اُن کا یہ ادعا سراسر غلط اور واقعات کے خلاف ہے۔اب میں نے گزشتہ سالوں کے اعداد و شمار