خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 110

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے آپ لوگوں کے لئے موقع ہے کہ جب آپ کو وقت زیادہ مل گیا ہے تو آپ خرچ اور آمد پر بھی پوری طرح بحث کریں۔اس وقت تک ہمارے سامنے آمد بڑھانے کا صرف ایک ہی ذریعہ رہا ہے کہ لوگوں سے چندہ وصول کر لیا جائے ، چنانچہ اِس وقت جو رپورٹ سنائی گئی ہے اُس میں بھی سارا زور اسی بات پر صرف کیا گیا ہے کہ چندہ بڑھا کر اپنی آمد میں زیادتی کی جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سب سے اہم چیز چندہ ہے۔نہ صرف اس لئے کہ اس سے روپیہ جمع ہوتا ہے بلکہ اس لئے بھی کہ یہ جماعت کے اخلاص اور اس کے جوش کو قائم رکھنے والی چیز ہے۔وہ شخص جو چندہ دینے میں مستی سے کام لیتا ہے اُس کا جوش اور اخلاص رفتہ رفتہ مرتا چلا جاتا ہے۔چندہ کی وصولی کی اہمیت پس جماعت کے خزانوں کو بھرنے کے لئے نہیں، اپنے کاموں کو وسیع کرنے کے لئے نہیں بلکہ جماعت کے اخلاص اور اُس کے ایمان کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم چندہ کی وصولی پر زور دیں اور دیتے چلے جائیں۔جب کسی قوم میں قربانی کی روح کمزور ہو جاتی ہے ، اُس کا ایمان بھی کمزور ہو جاتا ہے اور وہ تنزل میں گر جاتی ہے۔پس بے شک یہ بھی ایک اہم ذریعہ ہے اپنی آمد کو بڑھانے کا مگر یہ ضروری نہیں کہ باوجود سارے اخلاص کے جماعت ان ضرورتوں کو پورا کر سکے جو اس کے سامنے آئیں۔مثلاً اس سال میں نے دیہاتی مبلغین کا ایک طریق جاری کیا ہے۔پندرہ دیہاتی مبلغین پچھلے سال تیار کئے گئے تھے جو مختلف مقامات پر مقرر کر دیئے گئے ہیں۔اُن کو ابھی کام پر لگے صرف ڈیڑھ مہینہ ہی ہوا ہے لیکن اُن کی جدو جہد کے جو نتائج نکل رہے ہیں وہ نہایت ہی خوشکن ہیں۔نہ صرف اُن کے ذریعہ تبلیغ وسیع ہو رہی ہے بلکہ ارد گرد کی جماعتوں میں بھی بیداری پیدا ہو رہی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی ترقی میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔گزشتہ سال سارے سال کی اندرون ہند کی بیعت پندرہ سو سے کچھ اوپر تھی لیکن اس سال صرف تین مہینہ کی بیعت ہی گیارہ سو سے اوپر ہے اور ابھی یہ رو ترقی کی طرف جا رہی ہے اور بیعت کی رفتار خدا تعالیٰ کے فضل سے تیز ہو رہی ہے۔اگر یہ رفتار قائم رہے تو اس سال کی بیعت خدا تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ سالوں کی بیعت کے ریکارڈ کو توڑنے والی ثابت ہو گی۔ہم نہیں جانتے