خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 90

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء یوں کہا ، فلاں موقع پر یوں کہا، یہاں تک کہ علاقوں کے علاقے ان باتوں سے واقف ہو جائیں اور انہیں مسائل سیکھنے کا اشتیاق ہر وقت بیدار اور ہوشیار رکھے۔اگر گجرات کے لوگوں سے کوئی شخص پوچھے کہ زکوۃ کا فلاں مسئلہ کس طرح ہے؟ تو اُن کو معلوم ہو اور اگر معلوم نہ ہو تو وہ بتا سکیں کہ فلاں شخص جو جہلم کا رہنے والا ہے اُس نے ایک دفعہ ہمیں یہ مسئلہ خلیفہ وقت سے سن کر بتایا تھا تم اُس کے پاس جاؤ اور اُس سے یہ مسئلہ دریافت کرو اور وہ اس دُھن میں جہلم جائے اور اس سے مسئلہ دریافت کرے۔یا جہلم میں کوئی شخص نماز کے متعلق کوئی مسئلہ دریافت کرے تو جہلم کے لوگوں کو معلوم ہو کہ اس کا کیا جواب ہے اور اگر ان کو خود جواب معلوم نہ ہو تو وہ کہہ سکیں کہ دہلی کا فلاں شخص ہمارے پاس آیا تھا اور اُس نے خلیفہ وقت سے سن کر ہمیں یہ مسئلہ بتایا تھا، تم اُس کے پاس جاؤ اور دریافت کرو۔اِس پر وہ دہلی جائے اور اُس مسئلہ کے متعلق اطمینان حاصل کرے۔یہ طریق ہے جس پر عمل کر کے جماعت کے قلوب میں دینی مسائل کی اہمیت کا صحیح احساس پیدا ہوسکتا ہے اور یہی وہ طریق ہے جس کے بعد عمل کی قوت میں بھی حرکت پیدا ہوتی ہے۔جب انسان صرف تقریر میں اور لیکچر سنتا رہے تو احساس عمل اس کے اندر زیادہ زور سے پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر مسئلہ دریافت کرنے کے لئے کسی کو دہلی تک جانا پڑتا ہے یا جہلم یا گجرات کا سفر اختیار کرنا پڑتا ہے تو وہ اس مسئلے کو ساری عمر بھی بھول نہیں سکتا۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم باتیں تو بہت سنتے ہیں مگر عمل کا جوش ہمارے اندر پیدا نہیں ہوتا۔اس کی وجہ در حقیقت یہی ہے کہ اُن کے دلوں میں علم کی قدر نہیں ہوتی۔اگر کوئی شخص نماز کے مسائل دریافت کرنے کے لئے دہلی جاتا ہے۔وہاں سے اُسے پتہ لگتا ہے کہ بنارس میں کوئی شخص ان مسائل سے واقفیت رکھتا ہے اور وہ دہلی سے بنارس چلا جاتا ہے۔یا اگر پشاور میں اُسے کسی عالم کا پتہ لگتا ہے تو وہ پشاور جانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے تو اس کے بعد وہ کبھی بھی اُن مسائل کو نہیں بھول سکتا اور کبھی بھی عملی کو تاہی کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔در حقیقت یہ احساس کہ میں نے فلاں بات فلاں سے سُنی اور اس نے فلاں سے منی اور اُس نے مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سُنی یہ عمل کی قوت کو بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے اور مسائل کی اہمیت بھی واضح کر دیتا ہے۔مثلاً نور الحق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی