خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 63

خطابات شوری جلد دوم ۶۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء میں نے اس کے متعلق بتایا ہے کہ میں انتظام کر رہا ہوں لیکن اس کا نتیجہ جلد نہیں نکل سکتا چند سال کے بعد اس انتظام سے امدا دمل سکے گی۔پس آپ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو چھوڑ دیں اور بڑی باتوں کو لیں۔اور دوسروں کے نقائص کو نہ دیکھیں بلکہ اپنے نقائص کو 66 دیکھیں۔“ آمد بڑھانے سے متعلق سب کمیٹی پہ اعمال کی رپورٹ کے متعلق کئی احباب نے بیت اپنی آراء اور تجاویز بیان کیں جو اُن کے نزدیک جماعت کی آمد بڑھانے میں مفید ثابت ہو سکتی تھیں۔ممبران کی اس بحث کے بعد حضور نے احباب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: - اس وقت آمد کے متعلق معاملہ زیر غور ہے اور مختلف دوستوں نے مختلف تجاویز پیش کی ہیں۔انتظام کے متعلق تجاویز کے دو پہلو ہیں۔ایک یہ کہ جماعتیں پورے طور پر کام نہیں کرتیں اور دوسرا یہ کہ مرکز پورے طور پر ان سے کام نہیں لیتا۔میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ اسلامی طریق اور مغربی طریق میں یہ فرق ہے کہ مغرب کہتا ہے تو اپنے حق پر قائم ہو۔مگر اسلام کہتا ہے تو اپنی ذمہ واری ادا کر۔نتیجہ دونوں صورتوں میں ایک ہی نکلتا ہے۔یعنی زید نے بکر سے کچھ لینا ہو لیکن مغرب بکر کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے اے بکر ! اگر زید کا حق مار سکتا ہے تو مار اور زید کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے اگر بکر کا حق مارسکتا ہے تو مار لے، کم از کم یہ کر کہ اپنا حق حاصل کر لے۔اس طرح بھی زید اور بکر کو اپنا اپنا حق حاصل ہوسکتا ہے اور اسلام نے جو طریق رکھا ہے اس طرح بھی حق مل سکتا ہے۔مگر اسلام زید سے یہ کہتا ہے کہ بکر کا حق ادا کرو اور بکر سے کہتا ہے کہ زید کا حق ادا کرو، بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ بکر کا جس قدر حق ہے اگر ممکن ہو تو اس سے زائد بھی ادا کرو اور بکر سے کہتا ہے کہ جس قدر زید کا حق ہو اگر ممکن ہو تو اس سے زیادہ ادا کرو۔ان دونوں تعلیموں کی شکل مساوی ہے مگر نتیجہ کیا ہوگا؟ ایک سے غیریت پیدا ہوتی ہے اور دوسری سے محبت ، روحانیت ،صلح اور آشتی پیدا ہوگی۔بات ایک ہی ہے مگر اخلاقی طور پر جو اثر چھوڑ جاتی ہے وہ یہ ہے کہ مغربیت نے گندگی پیدا کی اور اسلامی تعلیم نے پاکیزگی۔ہمارے کام اگر اسلام کی اس تعلیم کے مطابق ہوں تو